Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

کچھ صارفین نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے جانے والے بیل آؤٹ فنڈز کی جانچ کرے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ فنڈز دہشت گردی کی حمایت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

میلونی نے اردگان سے فون پر کہا کہ روس- یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے جو کوشش آپ نے کی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے اردوان کی، جن پر دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزامات ہیں، امن قائم کرنے کی کوششوں کو سراہا ہے۔

جنیوا میں دو دن تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد امریکا نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر محصولات کو 145 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے پر اتفاق کیا۔

جان اسپینسر نے 'نیو انڈیا' کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "2008 کا ہندوستان حملوں کو جذب کرے گا اور انتظار کرے گا۔ یہ ہندوستان فوری، درستگی اور وضاحت کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ پی ایم مودی کی پالیسیاں، ہندوستان کی بڑھتی ہوئی دیسی دفاعی صنعت اور اس کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک اب اگلی جنگ کے لیے تیار ہے۔

ہندوستان اورپاکستان کے درمیان سیز فائر ہونے کے بعد اب دونوں ممالک نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ پاکستان نے ہندوستان کے جوان پی کے شا کو ہندوستان کو سونپ دیا ہے۔ وہیں، جوان کے بدلے ہندوستان نے بھی راجستھان میں پکڑے گئے پاک رینجرکوانہیں لوٹا دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت سعودی عرب میں ہیں۔ وہ بدھ کے روز شام کے موجودہ صدر احمد الشرع سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

پی ایم مارک کارنی نے میلانیا جولی کی جگہ انیتا آنند کو وزیر خارجہ مقرر کیا ہے۔ جولی اب وزیر صنعت ہوں گی۔ انیتا آنند اس سے قبل وزیر دفاع سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پھردوہرایا ہے کہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان امریکہ نے سیز فائر کروایا تھا۔ سعودی عرب کے دورہ پرگئے ٹرمپ نے یہ بات آج ریاض میں کہی ہے۔

سعودی معیشت کی میکرو اکنامک بنیادوں کا استحکام مملکت کی سرمایہ کاری کی کشش کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اگلے 4 برس میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کی طرف اشارہ کیا۔

یہ مذاکرات یوکرین اور روس کے درمیان تین سال سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کی امید لائے ہیں، لیکن چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ زیلنسکی اور پوتن کے درمیان ذاتی دشمنی مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔