Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

گوگل بھارت میں 15 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ ملک کے لیے کسی جیک پاٹ سے کم نہیں۔ اس سے ہندوستان کو کافی فائدہ ہوگا۔ یہ 15 بلین، ہندوستانی کرنسی میں اگر آپ حساب لگایں تو یہ  1,331.85 بلین بنتے ہیں۔

غزہ پٹی میں دو سال سے جاری جنگ کے بعد بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے۔ مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ اس معاہدے نے امیدیں بڑھا دی ہیں، لیکن کئی اہم امور پر معاہدہ اب بھی غیر واضح ہے۔

پریم چندرن نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسا ملک جو دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے عالمی سطح پر بدنام ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے

 ہندوستانی صنعت کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویزا ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے اور اسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں اطراف سے کاروبار کی آسانی سے نقل و حرکت کو آسان بنایا جاسکے۔

صدر ٹرمپ پی ایم مودی کی تعریف کر رہے تھے تو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ان کے بالکل پیچھے کھڑے تھے۔ پی ایم مودی کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے بھی شہباز کی طرف پلٹ کر دیکھا۔ شہباز شریف نے مسکرا کر ٹرمپ کے الفاظ کا خیر مقدم کیا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کے اعزاز میں کھڑے ہو کر بجائی گئیں تالیاں، ٹرمپ کی امن کوششوں، یروشلم کی تسلیم شدہ حیثیت اور جنگ بندی میں کردار پر اسرائیلی پارلیمنٹ میں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

غزہ امن معاہدہ کے تحت حماس نے 20 یرغمالیوں میں سے 7 قیدیوں کو رہا کردیا ہے۔ فوجی افسران نے کہا کہ باقی یرغمالیوں کو بھی جلد رہا کیا جائے گا۔ اس کے بعد 28 دیگریرغمالیوں کی واپسی ہوگی۔

مصرمیں آج غزہ امن سربراہی اجلاس ہورہا ہے۔ مصرکے صدرکے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ اس سمٹ کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں 20 ممالک شریک ہیں۔ تاہم حماس اوراسرائیل سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ دونوں نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ سربراہی اجلاس میں قیدیوں کے تبادلے اورغزہ کے لئے انسانی امداد میں اضافے پرتبادلہ خیال کیا جائے گا۔

غزہ پلان کے خلاف تحریک لبیک نے اسلام آباد کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا، وہاں جاکرٹی ایل پی کارکنان یوایس سفارت خانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے تھے، لیکن شہباز حکومت نے انہیں جانے سے روک دیا۔

چین کے سخت رویے اور بڑھتے اقتصادی دباؤ کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’چین کی فکر نہ کرو، سب بہتر ہو جائے گا۔ ہم چین کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔