Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے دو صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے گزشتہ سال جولائی میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی لوگ کر رہے تھے جنہوں نے اس سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔

ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری کی تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی نکولس مادورو پر ’’منشیات دہشت گردی‘‘ پر مبنی حکومت چلانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

مقامی وقت کے مطابق پہلا دھماکا رات تقریباً ایک بج کر پچاس منٹ پر ہوا، جس کے بعد مزید چھ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ صدارتی محل کے اطراف میں مسلسل سائرن بجتے رہے اور فوجی گشت بڑھا دی گئی

زیلنسکی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ خارکیف پر روس کا یہ ایک گھناؤنا حملہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو میزائل ایک عام رہائشی علاقے میں گرے، جس سے ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پرتشدد احتجاج ایران کے تقریباً 21 صوبوں تک پھیل چکا ہے اور 2022 کے بعد اسے ملک کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ سنگین معاشی بحران ہے۔ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، روزگار کے مواقع کی کمی اور بڑھتی مہنگائی نے عوام میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔

پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کرنا چار صحافیوں کو مہنگا پڑ گیا ہے۔ ملک کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک متنازع فیصلے میں چار صحافیوں سمیت آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافت کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

ایران میں نئے سال کا آغاز شدید عوامی بے چینی اور پرتشدد احتجاج کے ساتھ ہوا ہے۔ ملک میں بگڑتی معیشت، بے قابو مہنگائی اور کرنسی بحران کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر چکا ہے۔

افغانستان کی خبر رساں ایجنسی خامہ پریس کے مطابق، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ راکٹ حملے کے نتیجے میں ہوا، جبکہ دیگر کے مطابق یہ پہلے سے نصب بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا۔ صحت کے حکام نے بتایا کہ کئی ہلاک اور زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب زہران ممدانی نے عمر خالد کے لیے آواز اٹھائی ہو۔ جون 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ دورے سے قبل نیویارک میں منعقد ایک پروگرام کے دوران ممدانی نے عمر خالد کی جیل سے لکھی تحریروں کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے تھے۔