Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

کملا ہیرس نے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کی اس کارروائی سے امریکہ نہ تو زیادہ محفوظ ہوگا، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ انہوں نے لکھا کہ اگرچہ مادورو ایک آمر ہیں، لیکن اس طرح کا قدم سراسر بے وقوفانہ اور قانون کے خلاف ہے۔

امریکہ کی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ آف جسٹس نے ہفتہ کی دیر رات نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کی عبوری صدر مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک میں استحکام آنے تک امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کے انتظامی امور سنبھالے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیاسی بے چینی کو روکنا، معاشی نظام کو بحال کرنا اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ملک کو ایک محفوظ اور ذمہ دار قیادت کی طرف منتقل کیا جا سکے۔

وینزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کسی دباؤ یا طاقت کے آگے نہیں جھکے گا۔

ماچاڈو آزاد منڈی اور امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے وینزویلا کی معیشت کو دوبارہ مضبوط کرنے کی حامی رہی ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ کی وینزویلا پالیسی کی کھلے عام تائید کرتی ہیں۔

امریکی حملے کے بعد ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مادورو کو پہلے ہی خود سپردگی کی وارننگ دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل مادورو سے ان کی بات چیت ہوئی تھی، جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ انہیں سرنڈر کرنا ہوگا۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ادیالہ جیل میں مبینہ ’تنہائی قید‘ اور ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فوری پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے اس کمیٹی کے لیے سینیٹر علی ظفر، حامد خان، اعظم سواتی اور مثال اعظم کے نام تجویز کیے تھے۔

وینزویلا کی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں امریکی کارروائیوں کو ’’فوجی جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے دارالحکومت کراکس اور ریاستوں میرانڈا، اراگوا اور لا گوایرا میں شہری و فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

گزشتہ ماہ بھی خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس کی ایک موبائل وین کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق مسلح افراد نے سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے، اس کے بعد حملہ آوروں نے گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔

اچانک دھماکوں کے باعث عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا کہ لوگ کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ دھماکوں کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان تصاویر اور ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔