Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی پر عالمی سطح پر ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے امریکی اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک خود مختار ملک کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے عالمی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں واضح تضاد بھی نظر آیا۔ دراصل اس سے ایک دن قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ڈیلسی روڈریگز سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ امریکہ کی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ میں وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر شروع ہی سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ اٹلی نے اپنے اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مادورو کی جانب سے خود اعلان کردہ انتخابی جیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، حکومت کے جابرانہ اقدامات کی مذمت کی اور ہمیشہ وینزویلا کی عوام کی جمہوری تبدیلی کی امیدوں کی حمایت کی ہے۔

ملیشیائی وزیرِ اعظم نے کہا کہ وینزویلا کی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔ جیسا کہ تاریخ گواہ ہے، بیرونی طاقتوں کی وجہ سے قیادت میں اچانک تبدیلی اکثر فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بنتی ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جو پہلے ہی طویل عرصے سے معاشی بحران اور گہرے سماجی تناؤ کا شکار ہو۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جانب سے کی گئی حالیہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک اور جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کو مجروح کرتا ہے۔

وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کارروائی کی گئی، اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے خودمختار ملک کے خلاف زبردستی اور اس کے صدر کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں جاری شدید سیاسی ہلچل اور عدم استحکام کے درمیان بھارت نے پہلی مرتبہ اپنا سرکاری ردِعمل سامنے رکھا ہے۔ وینزویلا میں گزشتہ چند دنوں سے جاری احتجاجی مظاہروں اور کشیدہ حالات پر بھارت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ وہاں بدلتی …

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا کہ ان کا گروپ بھوٹان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو آئندہ بھی مزید وسعت اور مضبوطی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھوٹان کے ساتھ قائم یہ شراکت داری استحکام، باہمی اعتماد، ماحول کے تحفظ اور طویل مدتی فوائد پر مبنی ہے۔ گوتم اڈانی نے ہمالیائی ملک بھوٹان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں جاری تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔