Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

جاپان کی وزیر اعظم سنائی تاکائچی نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مبارکباد کے پیغام پر شکریہ ادا کیا اور بھارت کے ساتھ خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایپسٹین فائلز کے انکشاف نے کیئر اسٹارمر کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے، استعفے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں، جانشینی کی دوڑ میں امیگرنٹس ہونے کے باوجود امیگریشن پر سخت مؤقف رکھنے والی شبانہ محمود مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئی ہیں۔

وزیر اعظم مودی اور جمہوریہ سیشلز کے صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمنی کے درمیان پیر کو نئی دہلی میں ایک اہم اور جامع ملاقات ہوئی، جسے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے لیے نہایت معنی خیز قرار دیا گیا۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اگر یہ مشن کامیاب رہا تو چار سال کے اندر انسانوں کو مریخ پر بھیج دیا جائے گا۔ اس کے بعد مشنوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کیا جائے گا، جس کا حتمی ہدف تقریباً 20 سال میں مریخ پر ایک مکمل خود کفیل شہر تعمیر کرنا ہے۔

آئی وی ایل پی سے فیض یافتہ پروفیسر جیمس اسٹیفن میکا نے مشاہدہ کیا کہامریکییونیورسٹیاں تحقیق اور نئی سوچ کو ایک مضبوط نظام کے ذریعے اقتصادی ترقی اور عملی زندگی سے جوڑتی ہیں۔

جاپان میں اتوار کو ہوئے انتخابات میں وزیر اعظم اور قدامت پسند لیڈر سَناے تاکائچی کی قیادت میں حکومتی اتحاد نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ اس شاندار جیت پر وزیر اعظم مودی نے انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت۔جاپان دوستی ان کی قیادت میں نئی بلندیوں تک پہنچے گی۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے دو روزہ سرکاری دورۂ ملائیشیا کے دوران اتوار کو ملک کے سرکردہ بزنس لیڈرز سے ملاقات کی اور بھارت کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

وزیر اعظم مودی دو روزہ سرکاری دورۂ ملائیشیا مکمل کرنے کے بعد اتوار کو وطن واپس لوٹ آئے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو نئی توانائی دینے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دورہ ہندوستان اور ملائیشیا کے باہمی تعاون کو مزید گہرائی اور رفتار فراہم کرے گا۔

وزیراعظم مودی اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اتوار کو کوالالمپور میں ہونے والی دوطرفہ ملاقات کے دوران بھارت اور ملائیشیا کے درمیان تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے چھ اہم دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ادائیگی، سلامتی، ماحولیات اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔