Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

امریکہ اور اسرائیل کی شدید بمباری کے درمیان ایران نے اچانک ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے امن کی تین انتہائی خوفناک شرائط رکھ دی ہیں، جنہوں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ کیا ٹرمپ اور نتن یاہو ان شرائط کے سامنے جھک جائیں گے یا پھر مشرقِ وسطیٰ میں اب تک کی سب سے بڑی تباہی کھڑی ہو جائے گی؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

ایران کے مسلسل حملوں نے آبنائے ہرمزکو بند کردیا ہے، جس سے تیل کی عالمی تجارت کوخطرہ لاحق ہے۔ حال ہی میں عراق کی بندرگاہ بصرہ کے قریب دوامریکی آئل ٹینکروں پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہوگیا۔

لبنان سے 177 بھارتی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے جبکہ قطر سے بھی 500 سے زائد بھارتی شہری تجارتی پروازوں کے ذریعے ہندوستان روانہ ہو چکے ہیں۔ بھارتی سفارت خانوں نے صورتحال کے پیش نظر ہنگامی ہیلپ لائنیں فعال کر دی ہیں اور شہریوں کے لیے خصوصی سکیورٹی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک مختصر انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تقریباً پانچ منٹ پر مشتمل اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب نشانہ بنانے کے لیے بہت کم فوجی اہداف باقی ہیں، اس لیے جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث گیس سپلائی متاثر ہونے کے درمیان کینیڈا نے بھارت کو بطور ‘انرجی سپر پاور’ ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ قطر سے سپلائی میں رکاوٹ آنے کی صورت میں کینیڈا اب بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے فون پر مفصل بات چیت کی۔ اس گفتگو میں توانائی کی سپلائی، ہرمز اسٹرٹ کی سیکیورٹی، چابہار پورٹ منصوبہ اور علاقائی استحکام جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ میں دبئی بھی جل رہا ہے۔ کچھ دیر پہلے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پاس ڈرون سے حملہ ہوا ہے۔ اس میں 4 لوگ زخمی ہوگئے، جس میں ایک ہندوستانی بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ براؤنس وِل بندرگاہ پر قائم ہونے والی یہ نئی ریفائنری امریکی منڈیوں کو مضبوط کرے گی اور ملک کی قومی سلامتی کو بھی تقویت دے گی۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے امریکہ کی توانائی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور معیشت پر اربوں ڈالر کا مثبت اثر پڑے گا۔