Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ناسا کے آرٹیمس II مشن پر جانے والے خلا بازوں نے چاند کے قریب پہنچتے ہوئے زمین کی انتہائی شاندار اور دلکش تصاویر بھیجی ہیں۔ کمانڈر ریڈ وائز مین کی کھینچی ہوئی ایک تصویر میں زمین کا گھومتا ہوا حصہ اورین کیپسل کی کھڑکی سے نظر آ رہا ہے۔

افغانستان میں مختلف قدرتی آفات آتی رہتی ہیں، اس لئے زلزلوں سے سب سے زیادہ جانی نقصان ہوتا ہے۔ ہر سال اوسطاً تقریباً 560 افراد ہلاک ہوتے ہیں اور تقریباً 80 ملین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ مطالعات کے مطابق 1990 سے اب تک افغانستان میں 5.0 شدت سے زیادہ کے کم از کم 355 زلزلے آ چکے ہیں۔

میانمار میں دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے کامیابی حاصل کی، جبکہ بیشتر اپوزیشن جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی میں یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے کسی امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس علاقے میں طیارہ گرا، وہاں ایرانی فورسز لاپتہ امریکی اہلکار کی تلاش کر رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔

دورے کے دوران منتوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، صنعتی شراکت داری بڑھانے اور نئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز کئی میل دور تک سنی گئی۔ دھماکے میں پولیس اسٹیشن کی سنتری پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ عمارت کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہوگیا۔

ایران کا پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے وسطی ایران میں امریکی ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ ملبے پر برطانیہ کے لیکین ہیتھ ایئر بیس کے نشانات ملنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر ہلچل تیز ہو گئی ہے…

امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔