Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


سی ایم نے کہا کہ کامیڈی کرنا حق ہے، لیکن اگر نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو بدنام کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔ کنال کامرا نے وہی سرخ آئینی کتاب پوسٹ کی ہے جسے راہل گاندھی نے دکھایا تھا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو بھارت 2025 میں اپنی معاشی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی نے بھارت کی اس کارکردگی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال قرار دیا جو عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھانا چاہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مفت مراعات پر انحصار کم کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر زور دینے سے معاشی استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، "میک ان انڈیا" اقدام نے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا۔

گروسی نے بھارت کے عالمی شہری نیوکلیئر تعاون کے عزم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اس سے نہ صرف بھارت کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی تقویت ملے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی معاشی ترقی اور متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی آمدنی نے اس رجحان کو فروغ دیا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی سیاحت کے رجحانات میں تبدیلی اور آسان ویزا پالیسیوں نے بھی بھارتیوں کے لیے بین الاقوامی سفر کو مزید پرکشش بنا دیا ہے۔

واضح رہے کہ 17 مارچ کو تشددکے بعد کوتوالی، گنیش پیٹھ، تحصیل، لکڑ گنج، پچ پاؤلی، شانتی نگر، سکردرہ، نندن وان، امام باڑہ، یشودھرا نگر اور کپل نگر تھانے کے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

غریب چیتنا سمیلن' کے دوران لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے جیتن رام مانجھی نے کچھ وعدے بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سابق وزیر اعلیٰ کے دور میں شیرگھاٹی میں شروع کی گئی اسکیموں کو دوبارہ نافذ کریں گے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کے تازہ حملوں سے علاقے میں تباہی اور انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین نے خبردار کیا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر کمی کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔

اس واقعے کے بعد شیوسینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے "ایکس" پر پوسٹ لکھا، "پیارے کنال، مضبوط رہو۔ جس شخص اور گروہ کو تم نے بے نقاب کیا ہے، وہ تمہارے پیچھے پڑیں گے، اور ان کے بکاؤ لوگ بھی۔

استنبول میں مظاہرین نے بلدیہ کی عمارت کے سامنے جمع ہوکر "انصاف اور جمہوریت" کے نعرے لگائے، جبکہ پولیس نے احتجاج کو روکنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔