وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی معیشت ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جو مفت مراعات کے روایتی ماڈل سے ہٹ کر پائیدار ترقی اور بااختیاری پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کے معاشی اصلاحات متوسط طبقے اور مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) کو مضبوط کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت نے گزشتہ دہائی میں کئی اہم اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد مالی شمولیت، کاروباری آسانی، اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جن دھن یوجنا، گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)، اور ڈیجیٹل انڈیا جیسے پروگراموں نے متوسط طبقے کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں اور ایم ایس ایم ایز کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مفت مراعات پر انحصار کم کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر زور دینے سے معاشی استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، “میک ان انڈیا” اقدام نے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا، جس سے ایم ایس ایم ایز کے لیے روزگار کے مواقع بڑھے اور متوسط طبقے کی قوت خرید میں بہتری آئی۔اس کے علاوہ، حکومت نے ٹیکس کے نظام کو سادہ بنایا اور چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کی دستیابی کو بہتر کیا، جس سے ایم ایس ایم ایز کو اپنے کاروبار کو بڑھانے میں مدد ملی۔ مودی کے وژن کے تحت، بھارت اب ایک خود انحصار معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکے بلکہ عالمی سطح پر بھی مقابلہ کر سکے۔
یہ اصلاحات متوسط طبقے کے لیے بہتر تعلیم، صحت، اور رہائش کے مواقع بھی لا رہی ہیں، جبکہ ایم ایس ایم ایز کو تکنیکی جدت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پالیسیاں بھارت کو ایک مضبوط معاشی طاقت بنانے کی راہ ہموار کر رہی ہیں، جو مفت مراعات کے بجائے صلاحیتوں اور محنت کو ترجیح دیتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

