Bharat Express DD Free Dish

India Nuclear Programme

سال 2008 میں طے پانے والا بھارت-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدہ ایک بار پھر سیاسی اور اسٹریٹجک بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سال 2009 کے ایک امریکی سرکاری دستاویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا اس وقت کی UPA حکومت نے بھارت کے سِول نیوکلیئر پروگرام کو بین الاقوامی ادارے IAEA کی مستقل نگرانی میں دے کر ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو بھارت 2025 میں اپنی معاشی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی نے بھارت کی اس کارکردگی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال قرار دیا جو عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھانا چاہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مفت مراعات پر انحصار کم کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر زور دینے سے معاشی استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، "میک ان انڈیا" اقدام نے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا۔

گروسی نے بھارت کے عالمی شہری نیوکلیئر تعاون کے عزم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اس سے نہ صرف بھارت کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی تقویت ملے گی۔

جوہری توانائی قابل تجدید توانائی نہیں ہے لیکن یہ ایک صفر اخراج والی صاف توانائی کا ذریعہ ہے۔ یہ توانائی فیشن کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، جو یورینیم کے ایٹموں کو تقسیم کرنے کا عمل ہے جس سے توانائی پیدا ہوتی ہے۔

یو ایس بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی (بی آئی ایس) کے مطابق بی اے آر سی کے علاوہ اندرا گاندھی سینٹر فار اٹامک ریسرچ (آئی جی سی اے آر) اور انڈین ریئر ارتھز (آئی آر ای) پر سے  پابندی ہٹا ئی گئی ہیں۔

ہندوستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ "ہندوستان اور پاکستان نے آج نئی دہلی اور اسلام آباد میں ایک ساتھ سفارتی ذرائع کے ذریعے جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست کا تبادلہ کیاہے۔ یہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان جوہری تنصیبات پر حملوں کو روکنے کے لیے کیے گئے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔"

1990 کی دہائی کے وسط تک، چین پہلے ہی 45 جوہری تجربات کر چکا ہے، معمولی ترسیلی نظام تیار کر چکا ہے، جس میں پہلی نسل کے جوہری میزائل لے جانے والی آبدوزیں بھی شامل ہیں۔