ناگپور، مہاراشٹر میں تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اور اقلیتی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما فہیم خان کے گھر پر آج (24 مارچ) بلڈوزر کارروائی کی گئی ہے۔ فہیم خان کے گھر میں غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلایا گیا ہے۔ فہیم خان اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔ اب اس کے گھر کا غیر قانونی حصہ گرایا گیا ہے۔ناگپور میونسپل کارپوریشن (این ایم سی) نے اسے غیر قانونی تعمیر قرار دیا تھا اور فہیم خان کو 24 گھنٹے کے اندراسے ہٹانے کا نوٹس دیا تھا،اور ایسا نہ ہونے پر انتظامیہ نے اب خود کارروائی کی ہے ۔ ناگپور میونسپل کارپوریشن کی کہ یہ کارروائی سنجے باغ کالونی میں واقع فہیم خان کے دو منزلہ مکان پر کی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب این ایم سی تشدد کے ملزم کی جائیداد کو بلڈوز کر رہی ہے۔
#WATCH | Maharashtra: Police in Nagpur arrive at the residence of Nagpur violence accused Faheem Khan, with a bulldozer. pic.twitter.com/pJenvIVcZu
— ANI (@ANI) March 24, 2025
مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے دو دن پہلے جب پوچھا گیا تھا کہ کیا یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ جیسا انصاف فراہم کرنے کا طریقہ مہاراشٹر میں بھی اپنایا جائے گا؟ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ ‘اگر قانون اجازت دے گا تو بلڈوزر چلے گا۔’ یاد رہے کہ این ایم سی نے 21 مارچ کو ایک نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ فہیم خان کی اہلیہ ظاہر النساء کے نام پر رجسٹرڈ 86.48 مربع میٹر مکان غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیاہے۔
#Maharashtra के #NagpurViolence के मुख्य आरोपी #FaheemKhan के #Nagpur स्थित घर पर महानगरपालिका द्वारा तोडक करवाई शुरू..दो दिन पहले अवैध निर्माण को लेकर दिया गया था नोटिस #Bulldozer action शुरू..@TNNavbharat @Dev_Fadnavis @CMOMaharashtra @NagpurPolice pic.twitter.com/e2apeWRYNN
— Atul singh (@atuljmd123) March 24, 2025
گزشتہ20 مارچ کو میونسپل حکام نے گھر کا معائنہ بھی کیا تھا اور مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایکٹ 1966 کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیاتھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھر کے لیے کوئی بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ غیر قانونی تعمیرات کے زمرے میں آتا ہے۔ ہفتے کے روز، ناگپور پولیس نے فہیم خان کی اقلیتی ڈیموکریٹک پارٹی (ایم ڈی پی) سے تعلق رکھنے والے تشدد کے ملزمان کے ذریعے استعمال ہونے والی دو دکانوں کو بھی سیل کر دیا۔وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اتوار کو کہا کہ ناگپور میں کرفیو ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ شہر میں حالات مکمل طور پر پرامن ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ”ناگپور میں حالات پوری طرح پرامن ہیں۔ کہیں بھی کوئی تناؤ نہیں ہے۔ تمام مذاہب کے لوگ امن سے رہ رہے ہیں، اس لیے کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔
#Maharashtra: Civic authorities demolish the illegal portions of a house of #FahimKhan, a key accused in the #Nagpur violence who has been booked for sedition, after he failed to remove the unauthorised structure.#NagpurViolence #NagpurNews #NagpurRiots #Maharashtra pic.twitter.com/U2SnfzymLw
— Mumbai Tez News (@mumbaitez) March 24, 2025
واضح رہے کہ 17 مارچ کو تشددکے بعد کوتوالی، گنیش پیٹھ، تحصیل، لکڑ گنج، پچ پاؤلی، شانتی نگر، سکردرہ، نندن وان، امام باڑہ، یشودھرا نگر اور کپل نگر تھانے کے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ ناگپور کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر پتھراؤ اور آتش زنی اس وقت ہوئی تھی جب یہ افواہ پھیلی کہ چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع میں واقع اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے وشو ہندو پریشد کی زیرقیادت احتجاج کے دوران مبینہ طور پرآیت لکھی ہوئی چادر کو جلا دیا گیا۔
ناگپور تشدد میں اب تک 112 ملزمان گرفتار
تشدد میں تین ڈپٹی کمشنر آف پولیس سطح کے افسران سمیت 33 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تشدد کے سلسلے میں ہفتے کے روز سات افراد کو گرفتار کیا گیا، جس سے حراست میں لیے گئے افراد کی کل تعداد 112 ہو گئی۔ اس سے قبل 20 مارچ کو نندن وان اور کپل نگر تھانے کے علاقوں سے اور 22 مارچ کو پچ پاؤلی، شانتی نگر، لکڑ گنج، سکردرہ اور امام باڑہ علاقوں سے کرفیو ہٹا دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




