Bharat Express DD Free Dish

Nisar Ahmad




Bharat Express News Network


کیرلا اسمبلی الیکشن میں اس بارمقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ ریاست میں کل 883 امیدوارمیدان میں ہیں، یعنی ہرسیٹ پراوسطاً 6 سے 7 امیدواراپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ الیکشن میں مقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ حالانکہ کئی سیٹوں پرصورتحال کافی مشکل ہوگئی ہے۔ کیونکہ باغی اورآزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے کئی انتخابی حلقوں میں مقابلہ کافی سخت ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم نریندرمودی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی حکومت پر"سنڈیکیٹ راج" اور"کٹ منی" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بنگال کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بنگال میں بھی تبدیلی اورترقی کا وعدہ کیا۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

مہاراشٹرکی نائب وزیراعلیٰ سنیترا پواراور روہت پوار سے بات چیت کے بعد ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کانگریس کے سینئرلیڈرسے تبادلہ خیال کیا ہے۔ صدرکے طورپران کے پاس امیدوار کا نام واپس لینے کا اختیار ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران مرشد آباد کے کنڈی میں کانگریس امیدوار ادھیر رنجن چودھری کے قافلے پر تیز رفتار ٹرک نے حملہ کیا۔ چودھری جیبنتی اور ہاٹپارہ کے درمیان اسٹیٹ ہائی وے 11 پرہونے والے حادثے میں بال بال بچ گئے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرجنگ بندی نہ مانی گئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔ امریکی فوجی اس کے لئے تیارہیں۔

آئی پی ایل 2026 کے 14ویں میچ میں دہلی کیپٹلس اورگجرات ٹائٹنس کے درمیان ایک دلچسپ مقابلے میں سخت ٹکردیکھنے کو ملی۔ گجرات ٹائٹنس نے اس میچ کو صرف ایک رن سے اپنے نام کیا۔ دہلی کی ٹیم آخری دو گیندوں پر دو رن بنانے میں ناکام رہی۔

آسام کی 126 اسمبلی سیٹوں پرآج ووٹنگ ہوگی۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کے دوران ووٹنگ کرائے جانے کی تیاریاں مکمل ہے۔ بی جے پی جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کے فراق میں ہے تو وہیں کانگریس واپسی کی راہ دیکھ رہی ہے۔

آئی ایم سی آرکے چیئرمین نے ایران کی تاریخی مزاحمتی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک صدیوں سے بیرونی دباؤ، حملوں اوربڑی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی بقا اوردفاع کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی تاریخ یہ ظاہرکرتی ہے کہ وہ دفاعی استقامت رکھتا ہے اوراس نے روایتی طورپرجارحانہ توسیع پسندی کے بجائے مزاحمتی حکمتِ عملی اختیارکی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ صورت حال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پراطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے، بالخصوص آبنائے ہرمزکے دوبارہ کھلنے اور کشیدگی میں کمی کے باعث، عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہوئی ہے اور بھارت سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی آئی ہے۔