Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


بھارتی حکومت نے 6 جولائی کو ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ رائٹرز کے X اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کے سلسلے میں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ اسی بیان کے بعد X کی مالک کمپنی، ایلون مسک کی سربراہی میں، ایک اور وضاحتی بیان سامنے آیا جس میں حکومت پر الزامات لگائے گئے۔

ڈی جی پی نے واضح کیا کہ بڑے DJ صرف شہر کے بائی پاس پر لگیں گے، انہیں شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ گزشتہ سال کانوڑیوں کی تعداد 4 کروڑ تھی، اس سال مزید اضافے کا امکان ہے۔ ریلوے سے سفر کرنے والے کانوڑیوں کو لے کر بھی بات چیت ہوئی ہے، اور سختی سے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص ٹرین کی چھت پر سفر نہ کرے۔

آرگنائزیشن کے بانی صدر بہجت ایوب نجمی نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ پندرہ جولائی سے باہر سے عمرے کے لیے آنے والے خواتین و حضرات میں تحفے وتحائف تقسیم کرنے کا سلسلہ حرم میں شروع کیا جائے گا۔ یہ سلسلہ آئندہ حج تک جاری رہے گا۔

طویل تعطل کے بعد اب نئے تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کم از کم 60 دن کی جنگ بندی، 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی بتدریج رہائی اور ان کی باقیات کی واپسی شامل ہے۔ اس کے بدلے میں بڑی تعداد میں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔

ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو نے حادثے کی ابتدائی رپورٹ وزارت شہری ہوابازی کو منگل کے روز سونپ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، AAIB امریکی ادارہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے ریاست اور ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ 43 کھلاڑیوں پر مشتمل دستے نے 27 جون سے 6 جولائی کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں 95  تمغے (45 طلائی، 34 چاندی، 16 کانسی) جیتے۔

ہر ایک تحفہ اپنے اندر بھارت کی ایک الگ تہذیبی کہانی سمیٹے ہوئے تھا۔ یہ تحائف نہ صرف خیر سگالی کے پیغام رساں بنے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کے فنون، اقدار اور روحانی ورثے کو عزت و افتخار کے ساتھ پیش کیا۔ یہ تحائف صرف رسمی تبادلے کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی روح، روایت اور فنون کا عالمی تعارف ہیں۔

یہ ایئر کنڈیشنڈ ایویلیویشن ہال جامعہ کے کنٹرولر آف ایگزامینیشن آفس بلڈنگ کی دوسری منزل پر واقع ہے، جہاں جائزہ کنندگان اور آبزرورز کے لیے مخصوص سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر سنگھ نے گڑھی چنوتی علاقے میں کئی دہائیوں سے آباد ان خاندانوں کی طرف سے مؤثر دلائل پیش کیے، جنہیں NGT کے سابقہ حکم کے تحت وہاں سے ہٹایا جا رہا تھا۔ ٹریبیونل کے ایک تاریخی فیصلے سے نہ صرف غریب عوام کو راحت ملی بلکہ ماحولیات کے تحفظ کی بھی راہ ہموار ہوئی۔

یہ اقدامات نہ صرف پروسیسنگ کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں، بلکہ مصنوعات کے معیار کو بلند کرنے اور مضبوط کاروباری ماحولیاتی نظام بنانے میں بھی مددگار ہیں۔