Bharat Express DD Free Dish

Rajnath Singh to initiate 16-hour discussion: آپریشن سندور پر پیر کو لوک سبھا میں 16 گھنٹے کی طویل بحث کا ہوگا آغاز، راجیہ سبھا میں منگل کے روز ہوگی بحث

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ لوک سبھا میں کریں گے بحث کا آغاز، وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، اور بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کی شرکت متوقع ہے۔

نئی دہلی — وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پیر کے روز لوک سبھا میں آپریشن سندور پر 16 گھنٹے طویل بحث کا آغاز کریں گے، جبکہ منگل کو راجیہ سبھا میں اسی موضوع پر گفتگو کی جائے گی۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کے مختلف مطالبات پر پیدا شدہ تعطل کو ختم کرنے کے لیے جمعہ کو ایک آل پارٹی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔

وزیراعظم مودی سمیت کئی بڑے لیڈران کی شمولیت متوقع

ذرائع کے مطابق لوک سبھا کی بحث میں وزیراعظم، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور بی جے پی اراکین پارلیمنٹ شریک ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی بھی لوک سبھا میں بحث کے دوران شامل ہوسکتے ہیں اور امکان ہے کہ وہ راجیہ سبھا میں بھی اپنی رائے رکھیں گے۔ راجیہ سبھا میں بھی راج ناتھ سنگھ اور ایس جے شنکر اہم وزراء کے طور پر اس بحث میں شامل ہوں گے۔

اپوزیشن کے نمائندے بھی بحث میں شریک

لوک سبھا میں تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے لاوو سری کرشنا دیورایلو اور جی ایم ہریش بالایوگی کو بحث کے لیے 30 منٹ کا وقت دیا گیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کی جانب سے پارٹی صدر اکھلیش یادو اور رکن پارلیمنٹ راجیو رائے حصہ لیں گے۔

حکومت کی ترجیح: پہلے آپریشن سندور پر گفتگو

مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن سندور پر لوک سبھا میں پیر (28 جولائی) اور راجیہ سبھا میں منگل (29 جولائی) کو 16-16 گھنٹے کی بحث کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کو ایک ساتھ زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اپوزیشن نے بہار میں خصوصی انتخابی فہرست کی جانچ (SIR) اور دیگر موضوعات پر بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم نے انہیں بتایا ہے کہ سب سے پہلے آپریشن سندور پر بحث کی جائے گی۔ اس کے بعد باقی معاملات پر غور کیا جائے گا۔

وزیراعظم کی موجودگی اور دیگر موضوعات پر بھی بات ہو

اپوزیشن پارٹیوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملہ، آپریشن سندور اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار کیے گئے دعوے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان انہوں نے جنگ بندی کروائی پر حکومت سے وضاحت مانگی ہے۔ اپوزیشن نے اس بحث کے دوران وزیر اعظم کی موجودگی کا بھی مطالبہ کیا تھا، جو اس ہفتے دو ملکی غیر ملکی دورے پر تھے۔ اسی لیے یہ بحث اگلے ہفتے کے لیے شیڈول کی گئی۔

ایوان کی کارروائی میں مسلسل رکاوٹ

مانسون اجلاس کے آغاز یعنی 21 جولائی سے اب تک دونوں ایوانوں میں بار بار تعطل دیکھنے کو ملا ہے، جس کی وجہ سے پارلیمانی کارروائی بہت کم ہو پائی ہے۔ اسپیکر اوم برلا نے جمعہ کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے سے قبل اپوزیشن ارکان سے اپیل کی کہ وہ ایوان کی کارروائی کو معمول کے مطابق چلنے دیں۔ انہوں نے بینرز دکھانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ تعطل کسی کے لیے بہتر نہیں۔ آئیں، بات کریں، اختلافات ہوں تو ایوان کے اصولوں کے مطابق ظاہر کریں۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے ایوان میں بحث و مباحثہ کے ذریعے بہت سے قومی و بین الاقوامی موضوعات پر روشنی ڈالی جائے گی اور ایوان کی کارروائی ایک نئے موڑ پر پہنچے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔