Bharat Express DD Free Dish

Government blocks 25 OTT platforms: وزارت اطلاعات و نشریات نے 25 او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کو کیا بلاک، فحش اور قابل اعتراض مناظر پر مبنی مواد نشر کرنے کا الزام

یہ کارروائی وزارت داخلہ، وزارت خواتین و اطفال کی فلاح، وزارت قانون، اور آئی ٹی وزارت کے ساتھ ساتھ فکّی، سی آئی آئی جیسے صنعتی اداروں اور خواتین و بچوں کے حقوق کے ماہرین سے مشاورت کے بعد عمل میں لائی گئی۔

نئی دہلی: وزارت اطلاعات و نشریات نے فحش اور غیر شائستہ ڈیجیٹل مواد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 25 او ٹی ٹی (OTT) پلیٹ فارمز کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر الزام ہے کہ وہ مسلسل ایسے مواد کی اشاعت کر رہے تھے جو ہندوستانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان میں کچھ مواد تو مکمل طور پر فحش نگاری پر مبنی تھا جس میں نہ کوئی کہانی تھی اور نہ ہی کوئی سماجی یا اخلاقی پیغام۔

فحش اور قابل اعتراض مناظر پر مبنی مواد نشر کرنے کا الزام

حکام کے مطابق یہ پلیٹ فارمز مختلف ڈیجیٹل ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے ایسا مواد نشر کر رہے تھے جن میں عریانی، جنسی حرکات کی کھلی نمائش، اور بعض اوقات خاندانی رشتوں پر مبنی نامناسب جنسی مناظر دکھائے جا رہے تھے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مواد صرف ناظرین کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے نشر کیا جا رہا تھا، جس میں نہ کوئی تہذیبی مقصد تھا اور نہ ہی کوئی فنی معیار۔ کچھ سیریز میں مکمل برہنگی دکھائی گئی اور ناظرین کے احساسات کی کوئی پروا نہیں کی گئی۔

قانون کی متعدد دفعات کی خلاف ورزی

وزارت نے یہ کارروائی انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 67 اور 67A، تعزیرات ہند کی دفعہ 292 اور 1986 کے قانون ’’غیراخلاقی خواتین کی نمائندگی کی ممانعت ایکٹ‘‘ کی دفعہ 4 کے تحت کی ہے۔ بلاک کیے جانے والے پلیٹ فارمز میں Ullu، ALTT، Big Shots App، NeonX VIP اور Desiflix جیسے مشہور نام شامل ہیں۔ ان کے علاوہ 26 ویب سائٹس اور 14 موبائل ایپلی کیشنز کو بھی بلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جن میں سے کچھ گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور پر دستیاب تھیں۔

حکومت کی جانب سے متعدد وارننگز کے باوجود خلاف ورزی جاری

حکومت نے ستمبر 2024 میں ان تمام پلیٹ فارمز کو باقاعدہ سرکاری وارننگز جاری کی تھیں۔ اس سے قبل فروری 2025 میں بھی وزارت نے ایک مشاورتی نوٹ جاری کر کے ان سے آئی ٹی رولز 2021 کے اخلاقی ضابطہ پر عمل درآمد کی اپیل کی تھی۔ لیکن ان پلیٹ فارمز نے نہ صرف ہدایات کو نظرانداز کیا بلکہ نئی ڈومینز کے ذریعے فحش مواد کی اشاعت جاری رکھی۔

دیگر محکموں اور ماہرین کی مشاورت میں فیصلہ

یہ کارروائی وزارت داخلہ، وزارت خواتین و اطفال کی فلاح، وزارت قانون، اور آئی ٹی وزارت کے ساتھ ساتھ فکّی، سی آئی آئی جیسے صنعتی اداروں اور خواتین و بچوں کے حقوق کے ماہرین سے مشاورت کے بعد عمل میں لائی گئی۔ ڈیجیٹل پبلشر کانٹینٹ گریفینس کونسل نے بھی متعدد پلیٹ فارمز کے خلاف شدید تحفظات ظاہر کیے تھے، جن میں ALTT پر نشر ہونے والی ایک سیریز کو مکمل طور پر بے ذوق اور بیزار کن قرار دیا گیا۔

بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر بھی سوالات

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) نے بھی ان پلیٹ فارمز کی مواد پر جولائی و اگست 2024 میں اعتراض درج کرایا تھا۔ پلیٹ فارمز کو فحش نگاری اور بچوں کی ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے وارننگ دی گئی تھی۔ وزارت کو ان پلیٹ فارمز کے خلاف بڑی تعداد میں عوامی شکایات بھی موصول ہوئی تھیں، جنہیں کارروائی کا اہم جواز بنایا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read