Bharat Express DD Free Dish

Babri Masjid Demolition Case: بابری مسجد کے معاملے پر صرف سونیا نہیں، پورا ملک رویا تھا، آئین کے لیے سیاہ دن تھا: یوسف عباس

مولانا یوسف عباس نے کہا، ’’جب بابری مسجد کو گرایا گیا تھا تو صرف سونیا گاندھی ہی نہیں، بلکہ پورا ملک رو رہا تھا۔ صرف چند لوگ ہنس رہے تھے، باقی پورا ملک غم زدہ تھا۔

بابری مسجد کے انہدام پر سونیا گاندھی کے تبصرے سے متعلق ملک بھر میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اور ترجمان مولانا یوسف عباس نے اس واقعے کو تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا ہے۔ دوسری جانب بی جے پی رہنماؤں نے سونیا گاندھی کے بیان پر تنقید کی ہے، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان وارث پٹھان نے بابری مسجد کے انہدام کے لیے کانگریس کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

مولانا یوسف عباس نے کہا، ’’جب بابری مسجد کو گرایا گیا تھا تو صرف سونیا گاندھی ہی نہیں، بلکہ پورا ملک رو رہا تھا۔ صرف چند لوگ ہنس رہے تھے، باقی پورا ملک غم زدہ تھا۔ یہ ہندوستان کے آئین کے لیے ایک سیاہ دن تھا، ایسا دن جب آئین کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دیا گیا تھا۔‘‘انہوں نے کہا کہ معاملہ کسی عمارت کو گرانے یا بنانے کا نہیں، بلکہ ہندوستان کے آئین کا ہے۔ آئین میں دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی اور مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے باوجود اللہ سے ہماری دعا ہے کہ کسی ماں کی گود دوبارہ نہ اجڑے اور کسی خاتون کا گھر برباد نہ ہو۔ مندر اور مسجد کے نام پر پہلے ہی بہت سیاست ہو چکی ہے۔ اب تمام سیاسی جماعتوں کو غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل پر بات کرنی چاہیے۔‘‘

’6 دسمبر 1992 جمہوریت کے لیے سیاہ دن تھا‘: وارث پٹھان

ممبئی میں اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے کہا کہ ان کے نزدیک 6 دسمبر 1992 ہندوستانی جمہوریت کے لیے انتہائی سیاہ دن تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ایسا مانتے ہیں کہ اس دن ایک سازش کے تحت ہماری بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا۔ آج بھی ہمارا یہی ماننا ہے کہ جہاں ایک بار مسجد تھی، وہ قیامت کے دن تک وہیں رہے گی۔‘‘وارث پٹھان نے مزید کہا کہ بابری مسجد کے انہدام کے لیے بی جے پی، آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے لوگ جتنے ذمہ دار ہیں، کانگریس بھی اس سے کم ذمہ دار نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read