Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


2006 ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے کیس میں بری ہونے والے کمال احمد انصاری کے اہل خانہ اور قریبی افراد ان کی قبر پر جمع ہوئے اور بمبئی ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ بلند آواز میں پڑھا، جس نے ان کے انتقال کے چار سال بعد ان کا نام تمام الزامات سے بری قرار دیا۔

من کی بات کے 125ویں ایپی سوڈ میں کشمیر کے ڈل جھیل میں کھیلو انڈیا کے تحت پہلی بار منعقدہ واٹر اسپورٹس کا ذکر۔ وزیراعظم نے رشمتا ساہو اور محسن علی کو ان کی کامیابی پر دی مبارکباد

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کشیدگی نہیں رکھنی چاہئے بلکہ ہاتھ ملا کر آگے بڑھنا چاہئے۔ چین کی ہائی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس میں ہم تعاون کر سکتے ہیں۔ ژانگ شیاو کے مطابق ایس سی او سربراہی اجلاس بھارت اور چین کے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا اچھا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سولر پمپ کے ذریعے کسان باقاعدگی سے کھیتوں کی سیرابی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار اور معیار دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ یہ پمپ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم کر کے لاگت گھٹاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ، امریکی صدر کا دورۂ ہند منسوخ، دونوں حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

چین کو ہارڈ ویئر میں اور بھارت کو سافٹ ویئر میں برتری حاصل ہے۔ دونوں ممالک کی بڑی آبادی خود ایک بڑا بازار ہے۔ اگر بھارت، روس اور چین ایک ساتھ آ جائیں، تو وہ جی-7 ممالک کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر امریکہ کے ٹیرف کے خلاف دیگر ممالک ایک ہو جائیں، تو امریکہ کو یہ سمجھ میں آئے گا کہ دنیا اس کے حساب سے نہیں چلتی۔