Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


سی جے آئی نے وضاحت کی کہ اگرچہ آئین کے حصہ سوم میں انسانی وقار کا لفظ براہِ راست درج نہیں، لیکن عدلیہ نے اپنی تشریحات میں اسے بنیادی حقوق کی بنیاد تسلیم کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 14 میں من مانی پر پابندی، آرٹیکل 15 میں امتیاز کے خلاف تحفظ اور آرٹیکل 16 میں مساوی مواقع کی ضمانت، سب اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر شخص کی عزت نفس محفوظ رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ ’’پہلے تیل بلیک گولڈ تھا، اب چپس ڈیجیٹل ڈائمنڈ ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ 600 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ برسوں میں یہ 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ وزیراعظم مودی نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس مارکیٹ میں اہم حصہ حاصل کرے گا۔

جرمن وزیر خارجہ ویڈفل نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت اور جرمنی نے سلامتی و دفاع، معیشت و تجارت اور ہنرمند افرادی قوت جیسے شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے مثبت پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے یوکرین میں جنگ بندی کی بھارتی اپیل کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام یورپ کے لیے اہم ہے۔

اس اسکیم سے نہ صرف بڑی اور قائم شدہ ری سائیکلنگ کمپنیاں فائدہ اٹھا سکیں گی بلکہ چھوٹے اور نئے ادارے، بشمول اسٹارٹ اپس بھی مستفید ہوں گے۔ کُل فنڈ کا ایک تہائی حصہ خاص طور پر چھوٹے اور نئے یونٹس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

’21ویں صدی میں عدالتی فکر‘ کے موضوع پر ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی یادگاری لیکچر میں چیف جسٹس کا خطاب، کہا — قیدی بھی انسان ہیں، جانور نہیں، آئین نے ہر فرد کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا ہے

جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفل کا کہنا ہے کہ مودی کی پوتن سے ملاقات میں امن معاہدے پر زور دینا یورپ کے لیے اہم پیش رفت ہے، چین کی جارحیت پر تشویش اور دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی زور

مودی کی سفارتی حکمت عملی کی تعریف، دیوے گوڑا کا کہنا ہے کہ مودی کی اسٹریٹجک ملٹی الائنمنٹ پالیسی سے بھارت کو قریب مستقبل میں فائدہ ہوگا، پوتن اور شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات کو ’نئے جاگرن‘ کی علامت قرار دیا

بیجنگ میں تاریخی ملاقات کے بعد شمالی کوریائی عملے کی فورنزک جیسی صفائی، پوتن کے ساتھ کم کے استعمال شدہ ہر سامان کو احتیاط سے ہٹا دیا گیا، ملاقات ختم ہوتے ہی کم کا عملہ الرٹ موڈ میں دکھائی دیا

مراٹھا سماج کو ’’کنبی‘‘ ذات کا درجہ دینے کے اعلان کے ساتھ مراٹھا ریزرویشن کی مانگ پوری ہوگئی۔ چونکہ ’کنبی‘ ذات پہلے سے ہی او بی سی میں شامل ہے، اس لیے مراٹھا برادری کو اب تعلیم اور ملازمت میں ریزرویشن کا فائدہ مل سکے گا۔

ملند دیوڑا نے دعویٰ کیا کہ اقتصادی اور سیاسی میدان میں کانگریس نے اس راستے سے ہٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے جو یو پی اے دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’منموہن اکنامکس سے بھی اور پرانی کانگریس سے بھی نمایاں انحراف ہوا ہے۔‘‘