Bharat Express DD Free Dish

Congress on Saudi-Pak defence pact: سعودی عرب-پاکستان دفاعی معاہدہ، کانگریس نے وزیراعظم مودی کی سفارت کاری پر اٹھائے سوالات

کانگریس نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ’شخصیت پر مبنی سفارت کاری‘ کو بڑا دھچکا لگا ہے، حکومت ہند نے معاملے پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا۔

کانگریس نے جمعرات کو سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے بھارت کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی ’’بہت زیادہ تشہیر شدہ شخصیت پر مبنی سفارت کاری‘‘ کی ناکامی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ اس معاہدے کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعات بھارتی سلامتی کے لیے نہایت تشویشناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کو اچانک روکنے کے ایک ماہ بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے ملاقات کی، وہی شخص جن کے اشتعال انگیز بیانات نے اپریل 2025 میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کو ہوا دی تھی۔ اسی طرح وزیراعظم مودی کے چین کے دورے کے چند دن بعد ہی صدر شی جن پنگ نے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کو چین کے خفیہ فوجی کمپلیکس کا دورہ کرایا۔ اب سعودی عرب نے بھی پاکستان کے ساتھ ’اسٹریٹجک میچول ڈیفنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔

معاہدے کی تفصیلات

یہ معاہدہ بدھ کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی موجودگی میں طے پایا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’’سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری اور اسلامی بھائی چارے کے جذبے کے تحت یہ معاہدہ طے پایا ہے۔‘‘ معاہدے کے مطابق اگر کسی بھی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور مشترکہ جارحیت کے خلاف بازو آزمانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارت کا ردعمل

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کے ممکنہ اثرات کا باریکی سے جائزہ لے گی۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا: ’’ہمیں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کی اطلاع ہے۔ یہ معاہدہ دراصل ایک پرانی ترتیب کو رسمی شکل دیتا ہے۔ حکومت اس کے قومی سلامتی، علاقائی اور عالمی استحکام پر اثرات کا مطالعہ کرے گی۔ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور جامع سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read