Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


سیبی کی جانچ میں بڑی راحت، ہنڈن برگ رپورٹ کے الزامات خارج، کمپنی پوری قوت کے ساتھ نوآوری، شفافیت اور طویل مدتی ترقی پر توجہ دے گی۔

وزیراعظم مودی نے اپنے خط میں کہا کہ یہ اصلاحات نہ صرف بچت میں اضافہ کریں گی بلکہ ہمارے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں گی اور تہواروں کی رونق کو بڑھائیں گی۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ ’’اب تک کسی حکومت نے کوآپریٹیو سیکٹر کو اہمیت نہیں دی، لیکن 2021 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار ایک الگ وزارت تعاون قائم کی۔ ہم اس وزارت سے جتنی بھی مدد درکار ہو، فراہم کرتے ہیں۔ راجکوٹ نے ہمیشہ اس شعبے میں شاندار نتائج حاصل کیے ہیں اور کئی ایوارڈز بھی جیتے ہیں۔‘‘

وزیراعظم نے تاجروں سے گفتگو میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی مصنوعات کے سفیر کے طور پر ہمیشہ دیسی کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ’’دیسی خریدو، دیسی بیچو‘‘ تاکہ بھارت خود کفیل بن سکے اور ’وکسِت بھارت‘ کا ہدف حاصل ہو۔

ہیلسنکی سکیورٹی فورم 2025 میں خطاب کرتے ہوئے اسٹب نے کہا: ’’میں نے حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے یوکرین کی صورتحال پر بات کی ہے۔ بھارت کا یہاں ایک جغرافیائی سیاسی داؤ پر لگا ہوا ہے، اس لیے ہمیں انہیں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اب کارکی کابینہ میں کل سات وزراء شامل ہیں۔ پہلے سے موجود وزراء میں ریمیشور کھنال (وزیر خزانہ)، کلمان گھسنگ (وزیر توانائی، آبی وسائل و آبپاشی) اور اوم پرکاش آریال (وزیر داخلہ) شامل ہیں۔

وزیراعظم نے تاوانگ میں ایک جدید کنونشن سینٹر کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ یہ مرکز سطح سمندر سے 9,820 فٹ کی بلندی پر واقع ہوگا اور قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں، ثقافتی میلوں اور نمائشوں کی میزبانی کرے گا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے 1,290 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی شروع کیے جن میں سڑک رابطہ، صحت، فائر سیفٹی اور ورکنگ ویمن ہاسٹل جیسے منصوبے شامل ہیں۔

اسرائیل نے اس فیصلے کو ’’تباہ کن‘‘ اور ’’انتہائی نقصان دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔اطلاعات کے مطابق پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل کئی ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جیسے آزادی کی تحریک کو سودیشی کے منتر سے طاقت ملی تھی، ویسے ہی خوشحالی کی راہ بھی سودیشی کے منتر سے مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بوجھ کم ہونے سے صنعت کاروں اور ہنرمندوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2017 میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ملک نے ’’ون نیشن، ون ٹیکس‘‘ کا دیرینہ خواب پورا کیا۔ انہوں نے پرانے زمانے کی مشکلات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک شہر سے دوسرے شہر مال بھیجنے میں درجنوں ٹیکس اور چیک پوسٹس کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب یہ بوجھ ختم ہوچکا ہے اور عوام کو سستی قیمتوں پر سامان دستیاب ہوگا۔