Habiburrahman
Bharat Express News Network
JIH expresses condolences: ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال پر امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی کا اظہار تعزیت
اپنے تعزیتی پیغام میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک سنجیدہ عالم، دوراندیش ادارہ ساز اور ملت کے بے لوث خادم تھے۔ ان کی زندگی فکری دیانت داری، بلند اخلاقی ، دانشمندی اور ایمان و یقین سے عبارت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی پوری زندگی فکر کی آبیاری، اداروں اور افراد کی تشکیل میں صرف کی۔
Dr. Muhammad Manzoor Alam’s demise: ڈاکٹر محمد منظور عالم کی رحلت قوم و ملت کے لیے ناقابل تلافی نقصان: محمد ادیب
ڈاکٹر منظور عالم نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (OIS) جیسے اہم تحقیقاتی و تصنیفی ریسرچ سینٹر کو قائم کیا بلکہ اس پلیٹ فارم سے بڑے پیمانے پر معیاری تحقیقی کام کو فروغ دیا، تحقیقی افراد بھی تیار کیے اور اسلامک آبجیکٹیو اسٹڈیز کے تحت بے شمار ریسرچ پیپرس، تحقیقی کتابیں اور فکری منصوبے شروع کیے۔
ICC Men’s T20 World Cup 2026: آئی سی سی کے آزاد سکیورٹی جائزے کے مطابق بنگلہ دیش بھارت میں اپنے طے شدہ ٹی20 ورلڈ کپ میچز کھیل سکتا ہے، ٹیم کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں
ذرائع نے واضح کیا کہ ان جائزوں میں بنگلہ دیشی ٹیم، ٹیم عہدیداران یا بھارت میں میچ مقامات کے لیے کسی مخصوص یا براہ راست خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ پیشہ ورانہ مشوروں کی بنیاد پر کولکاتا اور ممبئی میں بنگلہ دیش کے طے شدہ میچز سے متعلق خطرہ بھی کم سے درمیانی سطح کا بتایا گیا ہے۔
Karur stampede case: کرور بھگدڑ معاملے میں اداکار وجے چندر شیکھر سے سی بی آئی نے تقریباً 7 گھنٹے تک کی تفتیش
یہ پوچھ گچھ ستمبر میں تمل ناڈو کے ضلع کرور میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے سے متعلق تھی، جس میں 41 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اب تک سی بی آئی وجے کی پارٹی کے متعدد افراد اور تمل ناڈو پولیس کے اہلکاروں سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔ اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سی بی آئی نے یہ تفتیش تمل ناڈو پولیس سے اپنے ہاتھ میں لی تھی۔
PM Modi addresses: ’’ہمیشہ نوجوان نسل پر بھروسا کیا ہے، آپ کی صلاحیت مجھے توانائی دیتی ہے‘‘: وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ سے وزیراعظم کا خطاب
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا: ’’جب میں نے پہلی بار وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تو شاید آپ میں سے کئی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ 2014 میں جب میں وزیراعظم بنا تو آپ میں سے اکثر بچے کہلاتے تھے، لیکن بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم میں نے ہمیشہ نوجوان نسل پر اعتماد کیا ہے۔ آپ کی صلاحیت، آپ کا ٹیلنٹ اور آپ کی توانائی مجھے بھی توانائی دیتی ہے۔‘‘
PM Modi concludes Gujarat visit: وزیراعظم مودی کا اعلیٰ سطحی مصروفیات کے بعد گجرات کا تین روزہ دورہ مکمل، ثقافتی، سفارتی اور تاریخی تقریبات سے بھرپوررہا دورہ
دورے کی ایک نمایاں جھلک وزیراعظم مودی کی جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ مصروفیات رہیں، جو بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ دونوں رہنماؤں کو گجرات میں اپنی مصروفیات کے بعد ایک ہی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو ان کے خوشگوار ذاتی تعلقات اور بھارت۔جرمنی دو طرفہ رشتوں کی مضبوطی کی علامت ہے۔
Indo-German partnership: جرمن صنعتکاروں نے بڑھتی ہوئی بھارت-جرمن شراکت داری کو سراہا، بھارت کی عالمی پیش رفت کی تعریف
جرمن کاروباری رہنماؤں نے اعتماد، مشترکہ اقدار اور اختراعات سے لے کر دفاع اور پائیدار نقل و حمل تک تعاون کے وسیع امکانات اجاگر کیے۔ اختراعات، ایرو اسپیس، دفاع، مینوفیکچرنگ اور پائیدار نقل و حمل جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود۔
Viksit Bharat Young Leaders Dialogue 2026: وزیراعظم مودی وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026 میں شرکت کے لیے بھارت منڈپم پہنچے
ڈائیلاگ کے اس دوسرے ایڈیشن میں کئی نئی جہتیں شامل کی گئی ہیں، جن میں ڈیزائن فار بھارت، ٹیک فار وکست بھارت سماجی مقصد کے لیے ہیکاتھون، موضوعاتی نشستوں کا دائرہ وسیع کرنا، پہلی مرتبہ بین الاقوامی شرکت شامل ہیں، جس سے اس پروگرام کی وسعت اور اثر میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
PM Modi ‘Effect’ On Heritage Revival: سومناتھ مندر کی ڈیجیٹل مقبولیت میں زبردست اضافہ، وراثتی احیا میں وزیراعظم نریندر مودی کے اثرات نمایاں
سومناتھ مندر بھارت کے سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے مذہبی مقامات میں شامل، آن لائن دلچسپی نے توڑے دو دہائیوں کے ریکارڈ، سومناتھ مندر میں ہر سال تقریباً ایک کروڑ یاتری حاضری دیتے ہیں، جو اسے بھارت کے اہم ترین مذہبی مراکز میں شامل کرتا ہے۔
Sabarmati Ashram Visit: ’’سابرمتی آشرم مہاتما گاندھی کے نظریات کی طاقتور یاد دہانی‘‘ وزیراعظم مودی اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بابائے قوم کے مجسمے پر گلہائے عقیدت نظر کیے
یہ دورہ بھارت اور جرمنی کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کی رفتار کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کے فائدے کے لیے مستقبل پر مبنی شراکت داری کے مشترکہ وژن کی توثیق کا موقع فراہم کرے گا۔




