Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


اس سال کے عالمی کتاب میلے کی سب سے اہم اور تاریخی خصوصیت یہ ہے کہ داخلہ مکمل طور پر مفت رکھا گیا ہے۔ یہ فیصلہ علم کو طبقاتی حدود سے آزاد کرنے اور زیادہ سے زیادہ عوام، خصوصاً طلبہ اور نوجوانوں کو کتابوں سے جوڑنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ میلے میں داخل ہوتے ہی یہ احساس گہرا ہو جاتا ہے کہ کتاب اب کسی مخصوص طبقے کی میراث نہیں رہی بلکہ ہر فرد کے لیے دستیاب ہے۔

بھارت-جرمنی اعلیٰ تعلیم، دفاع، توانائی اور عالمی امور میں تعاون کو نئی سمت دینے پر اتفاق، مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم نریندر مودی کا اعلان۔ چانسلر مرز کا یہ دورہ بھارت-جرمنی سفارتی تعلقات کےز 75 برس اور اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، جس کا مقصد مختلف اہم شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔

بھارت-جرمنی تعلقات کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پر وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ دونوں ممالک نے قابل اعتماد شراکت داری کو ٹیکنالوجی شراکت داری میں بدلنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نے سیمی کنڈکٹرز، پاور الیکٹرانکس، بایوٹیک، فن ٹیک، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی کو بے پناہ امکانات کے حامل شعبے قرار دیا۔

26 جنوری کو کرتویہ پتھ پر یوم جمہوریہ کی شاندار پریڈ دیکھنے کے خواہش مند افراد وزارتِ دفاع کے ’آمنترن‘ پورٹل سے آن لائن ٹکٹ بک کر سکتے ہیں، جبکہ دہلی کے مختلف مراکز پر آف لائن ٹکٹ بھی دستیاب ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’پریم نو وشوا، وشوا نو پریم‘ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا منتر ہے جو محبت کی طاقت سے آگاہ کرتا ہے اور دنیا کو امن و ہم آہنگی کا راستہ دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب دنیا تقسیم اور تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، تو یہ کتاب محبت کی قوت کو سمجھنے اور عالمی امن کی راہ دکھانے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

اس کانفرنس میں صاف توانائی کے شعبے میں گجرات کی قیادت اور بھارت کے ’پنچ امرت‘ وعدوں کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کو نمایاں کیا جائے گا۔ یہ اہداف وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی سطح پر پیش کیے تھے۔

کرن اڈانی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت غیر یقینی اور تقسیم کا شکار ہے، بھارت تقریباً 8 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے اور 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی سمت مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق آج بھارت سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کے لیے دنیا کے سب سے پرکشش ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نے ویر ہمیرجی گوہل اور سردار پٹیل کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شوریہ یاترا، سومناتھ سوابھیمان پرو کا علامتی جلوس ہے، جو جرات، قربانی اور اس ناقابل تسخیر روح کی علامت ہے جس نے صدیوں کی تباہ کاریوں کے باوجود سومناتھ کو زندہ رکھا۔

حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی سخت کر دی ہے اور غریب طبقے کے لیے ماہانہ تقریباً 7 امریکی ڈالر کی سبسڈی کا اعلان کیا ہے، تاہم عوامی بے چینی بدستور برقرار ہے۔ ایران میں یہ مظاہرے 2022-23 کے بعد سب سے بڑے احتجاج قرار دیے جا رہے ہیں، جو معاشی مشکلات، سیاسی جمود اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کی علامت ہیں۔

امت شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں کمیونسٹ پارٹیاں ختم ہو رہی ہیں اور کانگریس بھی ملک بھر میں کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اب کیرالہ کی ترقی کا واحد راستہ نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے ہے، جس کے لیے عوام کے درمیان عاجزی اور واضح وژن کے ساتھ جانا ضروری ہے۔