ٹوکیو: جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے پیر کے روز ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے ساتھ ہی ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ اعلان موجودہ پارلیمانی اجلاس کے پہلے ہی دن کیا گیا، جس کی خبر جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نیوز نے دی۔
تازہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کا فیصلہ
ٹوکیو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم تاکائچی نے کہا کہ وہ عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ ان کی وزارت عظمیٰ کا مستقبل انہی انتخابات کے نتائج سے مشروط ہوگا۔ ایوان زیریں تحلیل کرنے کا فیصلہ گزشتہ جمعہ کو کیا جا چکا تھا۔
انتخابی شیڈول طے، 27 جنوری سے مہم
حکمراں جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کے مطابق 8 فروری 2026 کو ووٹنگ متوقع ہے، جبکہ 27 جنوری سے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز ہوگا۔ یہ انتخابات وزیراعظم سانائے تاکائچی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے عام انتخابات ہوں گے۔ وہ 21 اکتوبر 2025 کو جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی تھیں۔
نئی اتحادی حکومت کا پہلا امتحان
یہ الیکشن لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور جاپان انوویشن پارٹی (جے آئی پی) کے درمیان ہونے والے تازہ اتحادی معاہدے کے بعد پہلا بڑا سیاسی امتحان بھی ہوگا۔ وزیراعظم تاکائچی اپنی کابینہ کی بلند عوامی مقبولیت کو بنیاد بنا کر اپنی ’’ذمہ دار مگر جارحانہ مالیاتی پالیسی‘‘ اور نئے اتحادی ڈھانچے کے لیے عوامی تائید حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
پارلیمان میں عددی مشکلات
تاکائچی حکومت کو پارلیمان میں قانون سازی کے دوران مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ایل ڈی پی کی قیادت میں اتحاد کو ایوان زیریں میں معمولی اکثریت حاصل ہے، جبکہ ایوان بالا (ہاؤس آف کونسلرز) میں اکثریت موجود نہیں، جس کے باعث اپوزیشن کے تعاون کے بغیر قانون سازی ممکن نہیں۔
اپوزیشن کی صف بندی تیز
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی انتخابات سے قبل متحد ہو رہی ہیں۔ کانسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان اور کومیتو پارٹی نے مل کر سنٹرسٹ ریفارم الائنس قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو آئندہ انتخابات میں سب سے بڑا اپوزیشن اتحاد بن سکتا ہے۔
اپوزیشن کا تنقیدی ردعمل
اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان مالی سال 2026 کے بجٹ کی منظوری کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کے مترادف ہے، حالانکہ تاکائچی حکومت پالیسی پر توجہ مرکوز رکھنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
