ٹوکیو: جاپان کی ایک عدالت نے سابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کے قاتل کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں شنزو آبے کو گولی مار کر قتل کرنے کے جرم میں 45 سالہ تتسویا یاماگامی کو زندگی بھر جیل میں رہنا ہوگا۔
قتل کا اعتراف، استغاثہ کا سخت مؤقف
تتسویا یاماگامی نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ اسی نے شنزو آبے کو ہلاک کیا۔ استغاثہ نے عدالت سے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل جاپان کی جنگ کے بعد کی تاریخ میں ایک بدترین واقعہ ہے، جس کے سماج پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہوئے۔ ملزم کے وکلا نے عدالت سے زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے جرم کی نوعیت اور اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے یہ اپیل مسترد کر دی۔
سکیورٹی میں سنگین کوتاہی کا اعتراف
واقعے کے بعد نارا پریفیکچر پولیس کے سربراہ توموآکی اونیزوکا نے اعتراف کیا کہ شنزو آبے کی حفاظت اور سکیورٹی انتظامات میں ناقابل تردید خامیاں موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل جانچ ضروری ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
انتخابی مہم کے دوران ہوئی تھی فائرنگ
شنزو آبے مغربی جاپان کے علاقے نارا میں انتخابی مہم کے دوران تقریر کر رہے تھے کہ اسی دوران یاماگامی نے قریب سے ان پر فائرنگ کر دی۔ گولی پیچھے سے ماری گئی، جس کے چند ہی منٹ بعد آبے زمین پر گر پڑے۔ 67 سالہ شنزو آبے کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا، مگر اس وقت ان کی سانسیں رک چکی تھیں اور دل کی دھڑکن بھی بند ہو چکی تھی۔ ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں، خون کی منتقلی سمیت ہنگامی علاج کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا۔
گھریلو ساختہ ہتھیار کا استعمال
پولیس کے مطابق یاماگامی نے ایک گھریلو ساختہ بندوق استعمال کی، جس کی لمبائی تقریباً 40 سینٹی میٹر تھی۔ بعد ازاں پولیس نے اس کے فلیٹ پر چھاپہ مار کر اسی نوعیت کے دیگر ہتھیار اور اس کا ذاتی کمپیوٹر بھی ضبط کر لیا۔ تحقیقات کے دوران یاماگامی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے شنزو آبے کو ایک مخصوص تنظیم سے جوڑنے والی افواہوں پر یقین کرتے ہوئے یہ منصوبہ بنایا، تاہم پولیس نے اس تنظیم کا نام ظاہر نہیں کیا۔ واضح رہے کہ جاپان دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور وہاں اسلحہ قوانین نہایت سخت ہیں۔ اس کے باوجود یہ واقعہ نہ صرف جاپان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک چونکا دینے والا سانحہ ثابت ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

