Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


سویڈن کی نائب وزیراعظم بدھ کے روز قومی راجدھانی پہنچی تھیں تاکہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں شرکت کر سکیں۔ وزارت خارجہ نے اپنے پیغام میں بھارت-سویڈن تعلقات کو تجارت، معیشت، سائنس، اختراع، موسمیاتی اقدام اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں پر محیط قرار دیا۔

جمہوریہ قبرص کے چیف سائنٹسٹ نے بھی نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمٹ نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ سمٹ میں سامنے آنے والے خیالات سے واضح ہے کہ اے آئی زرعی میدان سے لے کر صحت کی دیکھ بھال تک مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور بھارت اس عالمی مکالمے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں نیدرلینڈز کے خلاف میچ کے دوران جب شیوم دوبے کریز پر آئے تو بھارتی ٹیم 69 رنز پر تین اہم وکٹیں گنوا چکی تھی۔ ایسے دباؤ والے وقت میں انہوں نے صرف 31 گیندوں پر 66 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو 193 رنز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں دنیا بھر سے سرکاری پالیسی ساز، صنعت سے وابستہ ماہرین، ماہرین تعلیم، ٹیکنالوجی اختراع کار اور سول سوسائٹی کے نمائندے نئی دہلی میں جمع ہوئے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی مباحث کو آگے بڑھایا جا سکے۔

مکیش امبانی نے کہا کہ ریلائنس گروپ یہ ثابت کرے گا کہ اے آئی روزگار ختم نہیں کرتا بلکہ اعلیٰ مہارت والے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کون استعمال کی رفتار اور وسعت کے لیے سب سے مضبوط ماحولیاتی نظام قائم کر سکتا ہے۔

سندر پچائی نے حکومتوں اور صنعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ اقدامات کریں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے مثبت نتائج خود بخود یقینی نہیں ہوتے، اس کے لیے درست سمت اور نگرانی ضروری ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اے آئی گورننس، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

فرانس کے صدر میکروں نے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی ستائش۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر بھارت–فرانس اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلۂ خیال۔

سید سعادت اللہ حسینی نے رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اصولوں پر چٹان کی طرح مضبوطی سے قائم رہے، چاہے بیرونی دباؤ ہو یا اندرونی خواہشات کا زور۔ انہوں نے کہا کہ روزہ بھوک، پیاس، مصروفیات اور توجہ بٹانے والے عوامل کے باوجود ضبطِ نفس کی تربیت دیتا ہے تاکہ انسانی زندگی نفس کے بجائے اللہ کے احکام کی تابع ہو۔

سمٹ کی رہنمائی تین بنیادی ستونوں عوام، سیارہ اور ترقی کے تحت کی جا رہی ہے۔ یہ ستون عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے بنیادی اصول بیان کرتے ہیں، جن میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ انسان مرکز اے آئی، ماحولیاتی طور پر پائیدار ترقی، اور جامع معاشی و تکنیکی پیش رفت شامل ہیں۔