نئی دہلی: ڈائکریکٹوریٹ جنرل آف سول ایویشن (ڈی جی سی اے) نے ٹکٹ بکنگ سے متعلق قواعد میں بڑا فیصلہ لیتے ہوئے مسافروں کو 48 گھنٹوں کی مفت ونڈو فراہم کی ہے۔ اس مدت کے دوران مسافر ٹکٹ بکنگ کے بعد بغیر کسی فیس کے اسے منسوخ یا تبدیل کر سکیں گے۔ ڈی جی سی اے نے اپنے بیان میں کہا: ’’مسافر ٹکٹ بک کرنے کے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر کسی اضافی فیس کے اسے منسوخ یا اس میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔‘‘ البتہ اگر ٹکٹ کسی دوسری پرواز کے لیے تبدیل کیا جاتا ہے تو کرایے کے فرق (اگر کوئی ہو) کی ادائیگی مسافر کو کرنا ہوگی۔
کن پروازوں پر ہوگا اطلاق؟
یہ سہولت صرف ان صورتوں میں دستیاب ہوگی جب گھریلو پرواز کی روانگی میں کم از کم سات دن باقی ہوں۔ بین الاقوامی پرواز کی روانگی میں کم از کم پندرہ دن باقی ہوں۔ ڈی جی سی اے نے واضح کیا ہے کہ 48 گھنٹوں کی مدت گزرنے کے بعد معمول کے منسوخی چارجز لاگو ہوں گے۔ نظرثانی شدہ ضوابط 24 فروری کو جاری کیے گئے تھے اور یہ 26 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔
نام کی درستی اور ریفنڈ سے متعلق نئی ہدایات
نئے قواعد کے تحت اگر ٹکٹ براہ راست ایئر لائن کی ویب سائٹ سے خریدا گیا ہو اور 24 گھنٹوں کے اندر نام میں غلطی کی اطلاع دی جائے تو ایئر لائن اسی مسافر کے نام کی درستگی کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کرے گی۔ اگر ٹکٹ ٹریول ایجنٹ یا آن لائن پورٹل کے ذریعے خریدا گیا ہو تو ریفنڈ جاری کرنے کی ذمہ داری ایئر لائن کی ہوگی، کیونکہ ایجنٹ ان کے نمائندے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ڈی جی سی اے نے ہدایت دی ہے کہ ایسے معاملات میں ریفنڈ کا عمل 14 کاروباری دنوں کے اندر مکمل کیا جائے۔
ریفنڈ کی نئی مدت
نئے ضوابط کے مطابق: کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی گئی ادائیگی کا ریفنڈ سات دن کے اندر جاری کیا جائے گا۔ ایئر لائن دفتر میں کی گئی نقد ادائیگی اسی مقام پر فوری واپس کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ریگولیٹر نے ایئر لائنز کے لیے یہ بھی لازمی قرار دیا ہے کہ پرواز کی منسوخی یا مسافر کے سفر نہ کرنے کی صورت میں تمام قانونی ٹیکس اور مسافر سے متعلق فیس واپس کی جائیں، چاہے بنیادی کرایہ ناقابل واپسی ہی کیوں نہ ہو۔ نئے فیصلے کو مسافروں کے لیے ایک بڑی سہولت اور شفافیت کی سمت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

