نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے تل ابیب دورے کے بعد بھارت اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری کی اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ اسرائیل نے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا، جبکہ کسی بھی بھارتی وزیراعظم کو پہلی بار اسرائیلی پارلیمنٹ ’’نیسیٹ‘‘ میں خطاب کا موقع ملا۔ ’’مودی اسٹوری‘‘ کے مطابق، بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط شراکت داری کی بنیاد سنہ 2006 میں اس وقت پڑی جب نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔ ان کا یہ دورہ خالصتاً ترقیاتی مقاصد کے تحت تھا۔ وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ پانی کی شدید قلت والے ملک نے اختراع، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی واٹر مینجمنٹ کے ذریعے زراعت میں نمایاں کامیابی کیسے حاصل کی۔ اپنے’’ایگری ٹیک‘‘ دورے کے دوران انہوں نے جدید آبپاشی نظام، گرین ہاؤس فارمنگ، ویسٹ واٹر ری سائیکلنگ، ڈیری ڈیولپمنٹ اور ہائی ویلیو ایگریکلچر کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ گجرات اور اسرائیل کے درمیان مماثلتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے گجرات میں پانی کے مؤثر استعمال اور کسانوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے عملی حل تلاش کیے۔ بھارت۔اسرائیل بزنس فورم میں انہوں نے ’’فی بوند زیادہ فصل‘‘ کے وژن کو تقویت دی، جو بعد میں گجرات کی آبی پالیسی کا مرکزی نکتہ بن گیا۔
2017 کا تاریخی دورہ اور تعلقات میں اسٹریٹجک پیش رفت
ایک دہائی بعد، 2017 میں نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیرِ اعظم بنے اور ایک نئی تاریخ رقم کی۔ اس دورے نے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے میں داخل کیا۔ زراعت سے آگے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انوویشن، دفاع اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بھی تعاون میں اضافہ ہوا۔ ’’مودی اسٹوری‘‘ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے مضبوط ذاتی تعلقات نے صنعتوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان اعتماد سازی اور تعاون کی رفتار تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
50 برس کا سبق چند برسوں میں سیکھا
2017 کے وفد کا حصہ رہنے والے بھارت فورج کے منیجنگ ڈائریکٹر بابا کلیانی نے اس تبدیلی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’ان برسوں میں ہم نے وہ سیکھا جو پچھلے پچاس سالوں میں نہیں سیکھ پائے تھے۔‘‘ ’’مودی اسٹوری‘‘ کی جانب سے جاری ویڈیو میں بابا کلیانی نے کہا: ’’یہ بھارتی بزنس ڈیلیگیشن کے لیے ایک نہایت خاص لمحہ تھا جو وزیراعظم کے ساتھ اسرائیل گیا تھا۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی صنعتکاروں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ اس وقت ہماری توجہ یہ سمجھنے پر تھی کہ اسرائیل ٹیکنالوجی کیسے تیار کرتا ہے۔ راؤنڈ ٹیبل میٹنگ میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، آئی او ٹی اور اے آئی کو ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ میں کیسے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’یہ پہلی بار تھا جب ڈیجیٹل اور آئی او ٹی کے جامع تصور پر بات ہوئی کہ اسے بزنس، مینوفیکچرنگ اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں کیسے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ توجہ صرف دفاعی ٹیکنالوجی تک محدود نہیں تھی بلکہ زراعت اور دیگر کئی شعبوں پر بھی مرکوز تھی۔ اسی مرحلے سے اسرائیلی اور بھارتی کمپنیوں کے درمیان اس میدان میں تعاون کا باقاعدہ آغاز ہوا۔‘‘
ذاتی تعلقات نے بدلا کام کرنے کا انداز
بھارت۔اسرائیل تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے بابا کلیانی نے کہا: ’’اسرائیل میں میرے کئی دوست ہیں جو زیادہ تر دفاعی شعبے سے وابستہ ہیں، کیونکہ ہماری وہاں کی تین کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری رہی ہے۔ مگر میرا ماننا ہے کہ ان کا تعاون اور کھلا پن اس لیے بھی تھا کیونکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک غیر معمولی ذاتی تعلق قائم کیا تھا۔ یہی بنیادی وجہ تھی جس نے کام کرنے کے انداز کو بدل دیا۔‘‘
زراعت سے ٹیکنالوجی تک اسٹریٹجک شراکت داری
’’مودی اسٹوری‘‘ کے مطابق، وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں اسرائیل کے ساتھ جاری روابط تسلسل اور گہرائی کی علامت ہیں۔ 2006 میں گجرات میں زرعی اختراعات کے ایک مخصوص مشن کے طور پر شروع ہونے والا یہ سفر اب ٹیکنالوجی، باہمی اعتماد اور مشترکہ وژن کی بنیاد پر ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف زراعت بلکہ دفاع، ڈیجیٹل معیشت، اختراع اور جدید صنعت کاری کے میدانوں میں بھی دونوں ممالک کو قریب لا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




