India-Israel Relations: وزیراعظم مودی کے 2006 کے دورے نے رکھی تھی مضبوط شراکت داری کی بنیاد، زراعت سے ٹیکنالوجی تک تعاون میں وسعت
2006 میں گجرات میں زرعی اختراعات کے ایک مخصوص مشن کے طور پر شروع ہونے والا یہ سفر اب ٹیکنالوجی، باہمی اعتماد اور مشترکہ وژن کی بنیاد پر ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف زراعت بلکہ دفاع، ڈیجیٹل معیشت، اختراع اور جدید صنعت کاری کے میدانوں میں بھی دونوں ممالک کو قریب لا رہی ہے۔
PM Carney to visit India: کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی 26 فروری کو آئیں گے بھارت، وزیراعظم نریندر مودی سے کریں گے ملاقات
تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاع میں نئی شراکت داری پر توجہ۔ بھارت کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشت اور عالمی تجارت و ٹیکنالوجی کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔
A new dimension to UK–India relations: بھارت اوربرطانیہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے کنزرویٹو انڈیا پالیسی فورم کا قیام
دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان مضبوط شراکت داری۔ سی آئی پی ایف کے قیام کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہے، جبکہ برطانیہ عالمی سیاست، تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔





