Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ 2029 کے انتخابات میں خواتین کو ان کا حق دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، مگر اپوزیشن کے رویے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی خواتین اس سب کو دیکھ رہی ہیں اور وقت آنے پر فیصلہ کریں گی۔

اس اہم منصوبے کی تعمیر میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی نے بدایوں سے پریاگ راج تک تقریباً 464 کلومیٹر، یعنی کل منصوبے کے قریب 80 فیصد حصے کی تعمیر کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

میچ کا سب سے سنسنی خیز مرحلہ آخری اوور میں آیا، جب دہلی کو جیت کے لیے 15 رنز درکار تھے۔ اس موقع پر ڈیوڈ ملر نے جارحانہ انداز اپنایا اور روماریو شیفرڈ کے اوور میں مسلسل دو چھکے لگا کر میچ کا رخ بدل دیا۔ آخری گیند پر چوکا لگا کر ملر نے ٹیم کو شاندار جیت دلائی۔

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے واضح کیا کہ مجوزہ حلقہ بندی کا عمل خود بھی سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ صرف آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندی ملک کے وفاقی توازن کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مختلف خطوں کے درمیان علاقائی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس طرح کا عمل جلد بازی میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام ریاستوں، سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کے اتفاق رائے سے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

احتجاج کے دوران بی جے پی خواتین اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ جن لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ان میں مرکزی وزیرمملکت رکشا کھڈسے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج اور کمل جیت سہراوت شامل ہیں۔

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔