Bharat Express DD Free Dish




Bharat Express News Network


اس انٹرویو میں جانیں امریکہ۔ہند تعلقات کو اکیسویں صدی کی فیصلہ کن اسٹریٹجک شراکت داری میں ڈھالنے اور دونوں ممالک کے لیے واضح فوائد فراہم کرنے کے بارے میں ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور کے خیالات۔

اپنے خطاب میں ونے چوبے نے کہا کہ معاشرہ پولیس سے بہت زیادہ توقعات رکھتا ہے، اس لیے غیر جانبداری، ایمانداری اور حساسیت کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد پولیس اہلکاروں کے رویے سے قائم ہوتا ہے،

سینئر صحافی اور ایڈووکیٹ ڈاکٹر ایم۔ اطہرالدین منّے بھارتی کو آل انڈیا بار ایسوسی ایشن کا میڈیا ایڈوائزر متفقہ طور پر مقرر کیا  گیاہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر آدیش اگروالا  نے ان کی تقریری پر کہا کہ منّے بھارتی تقریباً 30 برسوں سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وزیراعظم آج گاندھی نگر کے کوبا تیرتھ میں واقع سمراٹ سمپرتی میوزیم کا افتتاح کریں گے۔ یہ میوزیم سمراٹ اشوک کے پوتے اور جین تاریخ کے ایک قابل احترام شخصیت، سمراٹ سمپرتی کے نام سے موسوم ہے۔ میوزیم سات حصوں پر مشتمل ہے، جن میں ہر حصہ بھارت کی تہذیبی روایات کے ایک مخصوص پہلو کو وقف ہے۔

یہ اجتماع نہ صرف عید کی خوشیوں کو بانٹنے کا ایک خوشگوار موقع تھا بلکہ امن، انصاف اور معاشرتی ہم آہنگی جیسے اعلیٰ اقدار کو اجاگر کرنے کا بھی سنہری لمحہ ثابت ہوا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے دل کھول کر بات چیت کی اور معاشرے میں باہمی احترام اور ایک ساتھ رہنے کی اہمیت کو محسوس کیا۔

آئی وی ایل پی سے فیضیافتہ گوہر جیلانیبتاتے ہیں کہ امریکی ادارے کس طرح کاروبار کو بحرانوں اور تعطل کا سامنا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

ڈاکٹر اندر یش کمار نے کہا کہ ہندوستانی نوجوانوں کے آئیڈیل دہشت گردی کی علامت قصاب نہیں بلکہ ملک کے عظیم سائنس دان اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام ہیں، جن کی زندگی اور افکار آج بھی نوجوانوں کو قوم کی تعمیر کے لیے ترغیب دیتے ہیں۔

سوریہ تلک تقریب کے دوران سوریہ کی کرنیں خصوصی تکنیک کے ذریعے رام کی مورتی کے ماتھے پر بالکل درست انداز میں پہنچتی ہیں، جس کی خاص مذہبی اہمیت ہے۔ یہ تقریب ایودھیا کے رام مندر میں عقیدت مندوں کے لیے خاص کشش بن چکی ہے۔

پروگرام کے دوران دیو روپ میں سجے بچوں کو میڈل اور سرٹیفکیٹ دے کر اعزاز دیا گیا۔ مقامی خواتین کی جانب سے بھجن سندھیا کی پیشکش نے ماحول کو اور بھی زیادہ بھکتی مے بنایا، جس سے حاضرین محظوظ اور مسحور ہو گئے۔