Urdu Conclave 2026

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


میم کے کیپشن میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جلد ہی انہیں کچرے کے ڈبے میں چھپایا جائے گا۔ایران کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ پر مزید طنز کیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جو شخص مبینہ طور پر بنکر میں چھپنے کی باتوں کا سامنا کر رہا تھا، وہ بالآخر اپنے دفتر میں مارا گیا، جبکہ بڑے جنگی بحری جہازوں اور جدید B-2 بمبار طیاروں پر فخر کرنے والے امریکی صدر کو آخرکار ایک فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار ہونا پڑا،

اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف) ، پولیس اور ضلع انتظامیہ کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی اہلکار سرنگ کے اندر موجود ملبہ اور پانی نکالنے کے ساتھ لاپتہ مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ پر بھی کئی براہ راست حملے کیے گئے۔کانگریس لیڈر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ میں مبینہ طور پر 20 دن تک عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے حکومت کی کارکردگی اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن کے کردار کو اہم قرار دیا۔

واقعے کے فوراً بعد فرنینڈو کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیر علاج رہے، تاہم منگل کے روز ان کی موت ہوگئی۔ پولیس نے اس معاملے میں ایک اسکول کے 17 سالہ کھلاڑی کو مبینہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ملزم کو منگل کے روز کولمبو کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 17 اگست تک بچوں کے اصلاحی مرکز بھیجنے کا حکم دیا گیا۔سُمیت فرنینڈو سری لنکا کے اسکولی کرکٹ میں ایک معروف کوچ کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔

فیڈریشن کے خلاف کارروائی کی ایک اہم وجہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مناسب نظام کا فقدان بھی بتایا جا رہا ہے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ فیڈریشن کے فیصلوں اور انتظامی طریقہ کار کا کھلاڑیوں اور ان کے مفادات پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔وزارت کے مطابق معاملہ صرف انتظامی کام کاج تک محدود نہیں ہے بلکہ کھلاڑیوں کے حقوق اور ان کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔

نین تارا کے مطابق گیتو صرف فنکاروں سے ان کا کام نہیں کرواتیں بلکہ ان کے جذبات کو بھی سمجھتی ہیں اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران فنکاروں کو مختلف حالات سے گزرنا پڑا۔ کبھی کسی کا دن اچھا رہا تو کبھی کسی کو مشکل سین کا سامنا کرنا پڑا۔

نصیرالدین شاہ جیسے ’لومڑی‘ بننے کے بجائے کتا کہلانا پسند کریں گی۔کنگنا کا یہ بیان نصیرالدین شاہ کے اس تبصرے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں جاری احتجاج اور طلبہ تحریکوں کے دوران بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کو شارٹ کٹ کی ذہنیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر لکھے جانے والے جملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ پل استعمال کرنے کے بجائے پٹری عبور کرکے شارٹ کٹ اختیار کرتے ہیں، جب کہ وہاں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’شارٹ کٹ آپ کی زندگی مختصر کر سکتا ہے۔‘‘مودی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ شارٹ کٹ کی سوچ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی پسند کے عظیم شخصیات کی سوانح عمری ضرور پڑھنی چاہیے۔

دگ وجے سنگھ نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ حکومت نے دو روز قبل عالمی یوم قبائل منایا، لیکن اسی دوران ریاست کی خصوصی طور پر پسماندہ بیگا قبائلی برادری کے خاندان سنگین بیماریوں کی زد میں ہیں۔ انہوں نے اسے مبینہ انتظامی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ریاستی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔دگ وجے سنگھ نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ دیہات میں طبی ماہرین کے ساتھ میڈیکل ٹیمیں تعینات کی جائیں اور وزیر صحت و چیف سیکریٹری خود صورتحال کا جائزہ لیں۔

امت شاہ نے اپوزیشن سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوپہر 2 بجے تک اسپیکر کو خط دے دیں، حکومت 3 بجے سے بحث شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ اگلے دن 3 بجے تک تمام سوالات کے جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ اپوزیشن کو کرنا ہے کہ وہ بحث چاہتی ہے یا ہنگامہ۔یہ بیان نیٹ پیپر لیک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ سخت کارروائی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔