نئی دہلی : مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے بالاگھاٹ ضلع کے قبائلی بلاک برسا میں مبینہ طور پر آلودہ پانی اور انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث بچوں کی اموات اور بڑی تعداد میں بچوں کے بیمار ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر اس پورے معاملے کی ریاستی سطح پر تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔دگ وجے سنگھ نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران برسا علاقے میں آلودہ پانی اور انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث 11 قبائلی بچوں کی موت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے سات بچوں کی موت کی تصدیق کی ہے، جب کہ چار دیگر اموات کی معلومات مبینہ طور پر سامنے نہیں لائی جا رہی ہیں۔ بالاگھاٹ ضلع اسپتال میں اب تک 100 سے زیادہ بچوں کو داخل کرایا جا چکا ہے، جن میں 40 سے 50 بچوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ریاستی حکومت 6 اگست سے ’جن وشواس ابھیان‘ چلا رہی ہے، وہیں برسا ترقیاتی بلاک کے متعدد دیہات آلودہ پانی سے پھیلنے والی موسمی بیماریوں کی زد میں ہیں۔ ان علاقوں میں ملیریا، نمونیا، نزلہ، کھانسی اور جلدی بیماریوں کے کیسز سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ تمام گاؤں ضلع ہیڈکوارٹر بالاگھاٹ سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہیں۔ دگ وجے سنگھ کے مطابق گزشتہ دس دنوں سے کئی گھروں میں بچے تیز بخار میں مبتلا ہیں اور بونداری، کنڈیکسا اور کورکا سے ملحق ٹولوں اور بستیوں میں خوف کا ماحول ہے۔
کانگریس لیڈر نے قبائلی رہنما شبھم اوئیکے کے حوالے سے کہا کہ ضلع اسپتال کا بچوں کا وارڈ بیمار بچوں سے بھر گیا ہے اور اب تک 11 بچوں کی جان جا چکی ہے۔ ان کے مطابق بونداری گاؤں میں مزدوری کرنے والے سمارو دھروے کے دو بچوں، ساحل دھروے اور نامین دھروے، کی نمونیا کے باعث موت ہوگئی۔ اسی طرح پریتی مرکام، اروند دھروے، سچن مرکام، پوجا دھروے اور روپ لال دھروے سمیت دیگر بچوں کی بھی تیز بخار کے باعث موت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔دگ وجے سنگھ نے بتایا کہ برسا کے رکن اسمبلی سنجے اوئیکے نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے بچوں کو فوری علاج کے لیے ضلع اسپتال بھیجا۔ بالاگھاٹ کی رکن اسمبلی انوبھا منجارے نے بھی بیمار بچوں سے ملاقات کی اور مناسب علاج کے لیے سول سرجن سے بات کی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ حکومت نے دو روز قبل عالمی یوم قبائل منایا، لیکن اسی دوران ریاست کی خصوصی طور پر پسماندہ بیگا قبائلی برادری کے خاندان سنگین بیماریوں کی زد میں ہیں۔ انہوں نے اسے مبینہ انتظامی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ریاستی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔دگ وجے سنگھ نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ دیہات میں طبی ماہرین کے ساتھ میڈیکل ٹیمیں تعینات کی جائیں اور وزیر صحت و چیف سیکریٹری خود صورتحال کا جائزہ لیں۔ انہوں نے ہر جاں بحق بچے کے اہل خانہ کو وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے 10 لاکھ روپے کی امداد دینے، جبکہ شدید بیمار بچوں کو ایئر لفٹ کرکے ناگپور، رائے پور یا بھوپال کے اسپتالوں میں داخل کرانے اور ان کے مکمل علاج کا خرچ حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


