Urdu Conclave 2026

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے اقتدار میں آنے والے لیڈروں کو بھی خبردار کیا کہ حکومت کو عیش و عشرت یا ذاتی مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے نئے وزرا کو یاد دلایا کہ آزاد بھارت میں عہدے اور اختیارات کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔گاندھی نے اقتدار کو ’کانٹوں کا تاج‘ قرار دیتے ہوئے غریبوں، دیہات اور عام لوگوں کی خدمت کو اولین ترجیح دینے کا پیغام دیا۔

پارٹی نے ہر ضلع میں صنعتی کلسٹر قائم کرنے، مقامی صنعتوں کو فروغ دینے اور مقامی سطح پر روزگار پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے ذریعے نوجوانوں کی ہجرت روکنے کے ساتھ زراعت، ٹیکنالوجی اور ایم ایس ایم ای شعبوں میں روزگار اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اپیندر رائے نے کہا کہ یہ واقعہ انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کی حقیقی خوشی غیر ضروری خواہشات اور ظاہری آسائشوں میں نہیں بلکہ سادگی اور ضرورت کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے۔

امت شاہ کے مطابق کشابھاؤ ٹھاکرے نے بھارتیہ جن سنگھ کے دور سے لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پھیلاؤ تک طویل عرصے تک تنظیم کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کئی نسلوں کے کارکنوں کی رہنمائی کی اور انہیں سیاسی و سماجی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی وجہ سے پارٹی کے اندر کشابھاؤ ٹھاکرے کو صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک سرپرست، مربی اور رہنما کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ  کے مطابق اروند گھوش نے ہندوستانیوں کو غیر ملکی حکمرانی کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔ انہوں نے آزادی کو محض ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا ،بلکہ اسے ملک کے خود اعتمادی، قومی بیداری اور روحانی جاگرتی سے بھی جوڑا۔اروند گھوش کی تحریروں اور خیالات میں بھارت کی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کی تہذیبی، ثقافتی اور روحانی شناخت پر بھی خاص زور نظر آتا ہے۔

لال قلعے کی فصیل پر قومی پرچم لہرانا ایک انتہائی منظم اور باقاعدہ فوجی پروٹوکول کے تحت ہونے والی کارروائی ہے۔ یہ محض پرچم لہرانے کی عام تقریب نہیں ہوتی، بلکہ اس دوران قومی ترانے، 21 توپوں کی سلامی اور دیگر رسمی مراحل کے درمیان انتہائی درست تال میل برقرار رکھا جاتا ہے۔اس پورے عمل میں ہر مرحلے کے وقت کا پہلے سے تعین کیا جاتا ہے اور معمولی غلطی کی بھی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔

اپیندر رائے نے کہا کہ انسانیت کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب انسان صرف اپنے درد تک محدود نہ رہے بلکہ دوسروں کی تکلیف کو بھی اپنے برابر محسوس کرے۔ ان کے مطابق حقیقی مددگار وہ نہیں جو لاکھوں روپے خرچ کردے، بلکہ وہ ہے جو اپنی محدود استطاعت کے باوجود کسی ضرورت مند کی 10 روپے کی مدد کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔

اپیندر رائے نے کہا کہ کئی مرتبہ انسان کے سامنے پہلے ہی سازش کی ایک گہری چادر بچھائی جاچکی ہوتی ہے، جو اس کے پھنسنے کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ انسان کو اس میں لپیٹ کر ایک طرف کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے ذہن کے بھٹکنے کے امکانات اور انسان کے سامنے موجود پیچیدہ حالات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خواتین کو فیصلہ سازی کے اہم مراکز میں زیادہ نمائندگی دینا ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی ترقی میں خواتین کی شراکت مسلسل بڑھ رہی ہے اور خواتین نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ سیاست میں بھی انہیں مساوی اور مناسب مواقع فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم مودی نے اپنے 13ویں یومِ آزادی کے خطاب میں ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے میں نوجوانوں اور نئی نسل کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کے لیے ملک کی رفتار اب رک نہیں سکتی۔ آنے والے برسوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانی ہوں گی اور نوجوان ان تبدیلیوں کے سب سے اہم محرک ثابت ہوں گے۔