Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجلاس کے اختتام کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ نے حتمی فیصلہ کیوں مؤخر کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث مذاکرات فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔

 دہلی- این سی آر میں آئندہ دو روز کے دوران موسم خاصا خراب رہنے کا امکان ہے۔ 30 مئی کو بادل چھائے رہیں گے اور ہلکی بارش متوقع ہے، جب کہ 31 مئی کو شدید آندھی اور موسلا دھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس دوران 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں،

اتر پردیش میں جدید انفراسٹرکچر اور تیز رفتار ترقی کی علامت بن چکا گنگا ایکسپریس وے ریاست کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ میرٹھ سے پریاگ راج تک پھیلا تقریباً 594 کلومیٹر طویل یہ ایکسپریس وے نہ صرف مغربی اور مشرقی اتر پردیش کو آپس میں جوڑ رہا ہے

2 جون کو صدر من آنگ ہلائنگ صبح 11:30 بجے نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچیں گے۔ اسی روز شام 7 بجے ان کی مہاراشٹر کے گورنر کے ساتھ لوک بھون، ممبئی میں ملاقات ہوگی۔

مہابھارت کے میدان جنگ میں بھگوان شری کرشن نے ارجن کو جو نصیحتیں دی تھیں، یہ شلوک اسی تعلیم کا خلاصہ مانا جاتا ہے۔ اس میں شری کرشن ارجن کو بتاتے ہیں کہ ’دیویہ سمپدا‘ یعنی اعلیٰ اور الٰہی صفات رکھنے والے انسانوں کی پہچان کیا ہوتی ہے

سی بی آئی نے گیری بالا سنگھ کو جمعرات کے روز ان کے کٹارا ہلز واقع رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی پیشگی ضمانت مسترد کیے جانے کے چند گھنوں بعد ہی سی بی آئی ٹیم نے صبح تقریباً 10:30 بجے ان سے پوچھ گچھ شروع کی،

دہلی پہنچنے کے بعد سدارمیا نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں کھڑگے سدارمیا کے کندھے پر ہاتھ رکھے نظر آ رہے ہیں۔ادھر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تین نائب وزرائے اعلیٰ بنانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے چودھری چرن سنگھ کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ:’’سابق وزیر اعظم اور بھارت رتن چودھری چرن سنگھ نے آزادی کی تحریک سے لے کر ایمرجنسی کے دور تک جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

طلاعات کے مطابق اس پل کی تعمیراتی منصوبے کو راجیہ سبھا رکن بابورام نشاد کی کوششوں کے بعد منظوری ملی تھی۔ یہ پل ان کے آبائی گاؤں موراکندر پرسنی کے قریب تعمیر کیا جا رہا تھا اور علاقے کے کئی دیہات کو آپس میں جوڑنے کے لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا تھا۔

مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی اس مالی مدد کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد خصوصی پروگرام میں منظوری دی گئی۔ اس کا براہِ راست فائدہ اتر پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش،