Urdu Conclave 2026

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


سومناتھ امرت مہوتسو میں شرکت سے قبل وزیر اعظم مودی نے ایک شاندار روڈ شو بھی کیا۔ اس دوران گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔

حکام کے مطابق تقریباً 30 فیصد طیارے رن وے پر جب کہ 70 فیصد ٹیکسی وے پر کھڑے رہے، جس کی وجہ سے تمام ملکی اور بین الاقوامی پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں۔رپورٹس کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر 288 افراد سوار تھے،

وزیر اعظم مودی نے ان سائنس دانوں اور ماہرین کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے سخت عالمی پابندیوں، وسائل کی کمی اور کئی چیلنجز کے باوجود بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف ایک جوہری تجربہ نہیں تھی بلکہ ملک کی خود اعتمادی، خود انحصاری اور سائنسی صلاحیت کا اعلان بھی تھا۔

روسی وزارت دفاع نے تقریباً 8 ہزار 970 جنگ بندی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی تھی۔ دوسری جانب یوکرینی حکام نے الزام لگایا کہ روسی حملے جنگ بندی کے باوجود جاری رہے، جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک جب کہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

وزیر اعظم مودی  وڈودرا روانہ ہوں گے، جہاں ان کے اعزاز میں ایک روڈ شو کا اہتمام کیا گیا ہے۔ گجرات اور مغربی بنگال کے بلدیاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالیہ کامیابی کے بعد اس پروگرام کو سیاسی اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

گرافکس، فونٹ اور نیوز چینل جیسے انداز کی وجہ سے یہ تصویر دیکھنے میں بالکل حقیقی محسوس ہو رہی تھی، جس کے سبب ہزاروں لوگوں نے بغیر تصدیق کے اسے شیئر کرنا شروع کر دیا۔ کئی یوزر نے اس خبر کو سچ مانتے ہوئے مختلف تبصرے بھی کیے اور دعویٰ کیا کہ بنگال جلد ہی بہار، گجرات، ناگالینڈ اور میزورم کی طرح شراب بندی والی ریاست بن جائے گا۔

میلونی نے مزید کہا کہ ماں بننے کے بعد انسان ایک ہی وقت میں زیادہ مضبوط بھی ہو جاتا ہے اور زیادہ حساس بھی۔ ان کے مطابق ماں ہونا ہر دن یہ سکھاتا ہے کہ بغیر کسی شرط اور حساب کے محبت کرنے کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جے پرکاش تیواری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے متعدد عملی دشواریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر صارف کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہوتا،

پرکاش راج کا یہ بیان خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انتخابات کے دوران وہ کھل کر وجے کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔ جب وجے کو حکومت بنانے کا موقع نہ دیے جانے پر سوال اٹھ رہے تھے، تب بھی پرکاش راج نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہی تھی۔

جسٹس گوئی نے معروف قانون دان نانی پالکی والا کو بھی یاد کیا، جن کے دلائل کی بنیاد پر “کیشوانند بھارتی” مقدمے میں آئین کے “بنیادی ڈھانچے کے نظریے” کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے 1975 کی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس ایچ آر کھنہ کی جرات مندانہ اختلافی رائے کا ذکر کیا