Urdu Conclave 2026

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیرس اولمپکس تنازع کے دوران ونیش کے اقدامات سے بھارتی کشتی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ ڈبلیو ایف آئی کے مطابق ان کے رویے نے فیڈریشن کے آئین، بین الاقوامی ریسلنگ قوانین اور اینٹی ڈوپنگ گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملے بھی رہے ہیں۔ واشنگٹن کو شبہ تھا کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ دی گئی تھی، اگرچہ پاکستان مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا۔

آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے لکھا، “آپ کو مبارکباد۔ بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں۔ میناب اسکول میں جن 168 بچوں کو آپ کے حکمرانوں نے مارا اور آپ نے اس کی حمایت کی، وہ بھی بچے ہی تھے۔

وجے کا وزیر اعلیٰ بننا تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی مانا جا رہا ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں سے ریاست میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے درمیان اقتدار کی جو روایت چلی آ رہی تھی، اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

امت شاہ اس دوران مرکزی ایجنسیوں کی تیاریوں، ریسکیو سسٹم اور ایمرجنسی رسپانس میکانزم کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ابتدائی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے، وسائل کی فوری فراہمی اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے پر بھی غور کیا جائے گا،

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے نے پہلی ہی بار شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں مختلف جماعتوں کی حمایت کے بعد وجے کو 121 ارکان کی تائید حاصل ہوئی،

اداکارہ نے کہا، “میں سنی دیول، رتیک روشن، جان ابراہم اور انیل کپور جیسے بڑے سپر اسٹارز کے ساتھ کام کر چکی ہوں، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ایک فنکار اپنی الگ پہچان کیسے بناتا ہے۔ کسی پر انحصار کرنے کے بجائے اداکاراؤں کو خود مضبوط بننا چاہیے۔

یدی یورپا نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے زیادہ کرناٹک اور عوامی خدمت کو ترجیح دی۔ امت شاہ کے مطابق یدی یورپا نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے جنوبی ہندوستان میں بی جے پی کی بنیاد مضبوط کرنے والےلیڈر ہیں۔

دوسری جانب ایم وی آئی آر ڈی سی ورلڈ ٹریڈ سینٹر ممبئی کے چیئرمین وجے کلانتری نے کہا کہ اس وقت بھارت اور مصر کے درمیان تقریباً 5 ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے، جسے دونوں ممالک 2030 تک بڑھا کر 12 ارب ڈالر تک لے جانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔

تمام مذہبی لیڈروں نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی، بقائے باہمی اور انسانی اقدار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی نفرت اور تشدد کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے مختلف مذاہب اور معاشروں کے درمیان مکالمہ اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔