Urdu Conclave 2026

Rahmatullah




Bharat Express News Network


بجٹ 2025 پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہاکہ ملک کے خزانے کا ایک بڑا حصہ چند امیر ارب پتیوں کے قرضے معاف کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔

اس سے پہلے 7 لاکھ روپے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا تھا۔  اسٹنڈرڈ ڈی ڈکشن صرف 75,000 روپے رکھی گئی ہے۔اب 24 لاکھ روپے کی آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس لگے گا۔ 75 ہزار روپے تک  اسٹنڈرڈ ڈی ڈکشن پر چھوٹ ہوگی۔

مرکزی وزیر کی جانب اب تک پیش کردہ بجٹ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ موبائل فون سے لیکر الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوں گی۔کپڑے اور چمڑے کی مصنوعات پر بھی راحت کی خبر سنائی ہے۔

سیتا رمن نے کہا کہ پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے مکھانہ بورڈ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ بورڈ پی ایف او کو منظم کرے گا اور مکھانہ کی کاشت کرنے والے کسانوں کو ٹریننگ  فراہم کرے گا۔

پانچ نشینل اسکل سینٹر بنائے جائیں گے ۔ ملک کی 23 آئی آئی ٹی میں طلبا کی تعداد دوگنی کی جائے گی۔ تین اے آئی ایکسلینس سینٹر بنائے جائیں گے۔پٹنہ آئی آئی ٹی میں ہاسٹل کی سہولیات میں توسیع کی جائے گی۔

ایوان کی کاروائی کے ساتھ ہی ہنگامہ شروع ہوگیا ۔ مہا کمبھ حادثے پر اپوزیشن کی جانب سے زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا، لیکن کچھ دیر بعد ہنگامے کی کمی کے ساتھ ہی نرملا سیتارمن نے ملک کا بجٹ پڑھنا شروع کردیا ۔

سلوان مومیکا اورایک شریک مدعا علیہ پر اسٹاک ہوم کی عدالت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے قرآن پاک جلانے کے حوالے سے بیانات کے ذریعے نسلی منافرت پر اکسایا تھا، سویڈش میڈیا کے مطابق جس وقت سلوان مومیکا کو قتل کیا گیا وہ ٹک ٹاک پر لائیو سٹریمنگ کر رہا تھا۔

گھروں میں استعمال ہونے والے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں آج کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ دہلی میں 14 کلو گھریلو ایل پی جی سلنڈر اب بھی 803 روپے کی پرانی قیمت پر دستیاب ہے۔ لکھنؤ میں اس ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 840.50 روپے ہے۔

دہلی کے سابق سی ایم اروند کیجریوال کے مطابق'میں نے بی جے پی کے حامی سے کہا کہ سیاست اور بی جے پی کو بھول کر خاندان کے بارے میں سوچو۔ انہوں نے کہا- میں اس الیکشن میں آپ کو ووٹ دوں گا لیکن بی جے پی کو نہیں چھوڑوں گا۔

ملک کا عام بجٹ آج پیش ہونے جا رہا ہے، سب کی نظریں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن پر ہیں۔ توقع ہے کہ وہ کچھ ایسے اعلانات کر سکتی ہیں جس سے عام آدمی کو راحت ملے گی، سست معیشت کی بحالی ہوگی اور روزگار میں بھی اضافہ ہوگا۔