عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ۔ (فائل فوٹو)
Sanjay Singh Oath as Rajya Sabha MP: عام آدمی پارٹی لیڈرسنجے سنگھ پیر(5 فروری) کوراجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ عہدے کا حلف نہیں لے سکے۔ عدالت سے اجازت لے کر راجیہ سبھا پہنچے سنجے سنگھ کو راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکھڑنے سنجے سنگھ کورکن پارلیمنٹ کے طورپرحلف لینے کی اجازت نہیں دی ہے۔ چیئرمین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ فی الحال استحقاق کمیٹی (پریویلیج کمیٹی) کے پاس ہے۔
جانکاری کے لئے بتادیں کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈرسنجے سنگھ کوراؤزایوینیوکورٹ کی طرف جزوی ریلیف دیا گیا تھا۔ عدالت نے سنجے سنگھ کوجیل سے باہرآکرراجیہ سبھا میں حلف لینے کی اجازت دی تھی۔ حالانکہ پیرکے روزحلف برداری تقریب سے پہلے ہی راجیہ سبھا چیئرمین نے پارلیمنٹ کے طورپرسنجے سنگھ کو حلف لینے کی اجازت دینے سے انکارکردیا ہے۔
جمعرات یکم فروری کوسنجے سنگھ عبوری ضمانت عرضی کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ انہوں نے 7 دنوں کی عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا تاکہ 5 فروری کو حلف برداری تقریب میں شامل ہوسکیں۔ ساتھ ہی، 5 فروری سے 9 فروری تک چلنے والے پارلیمنٹ سیشن میں حصہ لے سکیں۔
7 فروری کو سنجے سنگھ جاسکتے ہیں سلطان پور
حالانکہ سنجے سنگھ کی طرف سے وکیل رجت بھاردواج کا کہنا تھا کہ عبوری ضمانت کی عرضی کے مطالبہ پرزورنہیں دیا جا رہا ہے کیونکہ عام آدمی پارٹی کے لیڈرکو 7 فروری کو ان کے خلاف دائرایک دیگرمعاملے میں سماعت کے لئے سلطان پورجانا ہوگا۔ ضمانت کے بجائے انہیں صرف جانے کی اجازت مل سکتی ہے اور 5 فروری کو راجیہ سبھا رکن کے طورپرسنجے سنگھ حلف لے سکتے ہیں۔ حالانہ آج راجیہ سبھا چیئرمین نے عام آدمی پارٹی کے لیڈرکوحلف لینے کی بھی اجازت فراہم نہیں کی۔ وہیں، ای ڈی نے بھی سنجے سنگھ کے مطالبہ پرمخالفت نہیں کی۔ حالانکہ عدالت نے سنجے سنگھ کی عبوری ضمانت عرضی خارج کردی اورانہیں صرف 5 فروری کوحلف لینے کی اجازت دی گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

