حیدرآباد: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو حیدرآباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مارچ کی قیادت کی۔ اس مارچ میں پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کو لے کر بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی محاذ آرائی جاری ہے۔ مارچ کے دوران بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنان اور حامی پارٹی پرچم کے ساتھ سڑکوں پر نظر آئے۔ کئی شرکا نے امت شاہ کی بڑی تصاویر اور پورٹریٹ بھی اٹھا رکھے تھے۔ جلوس کے دوران کارکنوں نے نعرے لگائے اور پارٹی کے بینر و پرچم لہراتے ہوئے حیدرآباد کی سڑکوں سے گزرے۔
مارچ کے راستے پر سخت حفاظتی انتظامات
مارچ کے راستے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ امن و امان برقرار رکھنے اور جلوس کو پُرامن طریقے سے مکمل کرانے کے لیے مختلف مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ بی جے پی نے اپوزیشن کے الزامات اور اس کی مہم کے جواب میں ملک گیر سطح پر ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مہم شروع کی ہے۔ حیدرآباد میں اس پروگرام کے تحت امت شاہ نے مارچ کی قیادت کی، جس میں ریاستی بی جے پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ پارٹی نے اس سے قبل نظام کالج سے نامپلی کے ایم جے مارکیٹ تک مارچ کے استقبال کے لیے بڑے بڑے خیرمقدمی ہورڈنگز بھی لگائے تھے۔
راہل گاندھی کے بیان کے ایک دن بعد بی جے پی کا مارچ
بی جے پی کا یہ مارچ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے اس بیان کے ایک دن بعد منعقد ہوا، جس میں انہوں نے نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا بلاک کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے گا اور انہیں جیل بھیجا جائے گا۔ راہل گاندھی نے ان پر ملک میں مبینہ ووٹ چوری کو سہولت فراہم کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔ اتوار کو ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ گیانیش کمار کے بغیر نہ تو نریندر مودی وزیر اعظم بن سکتے تھے اور نہ ہی امت شاہ وزیر داخلہ کے عہدے تک پہنچ سکتے تھے۔
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کی ریلی
انڈیا بلاک کی اس ریلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ ریلی کا انعقاد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف کیا گیا تھا۔ ملک بھر سے اپوزیشن کے سرکردہ رہنما اور حامی ’چلو دہلی‘ احتجاجی مارچ میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے ایس آئی آر کے عمل اور ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ مارچ منٹو روڈ اور کناٹ پلیس کے جنکشن سے شروع ہوکر رام لیلا میدان پہنچا تھا۔ اس سے قبل 31 اکتوبر کو قومی دارالحکومت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عوامی سطح پر مواخذے کا پروگرام بھی منعقد کیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




