وارانسی: کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سولیوشنز نیٹ ورک کے صدر، معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر جیفری ڈی سیکس نے ہندوستان کی بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور اقتصادی ترقی میں اڈانی گروپ کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے اڈانی گروپ کو ملک میں بنیادی ڈھانچے پر مبنی ترقی اور معاشی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرنے والا ادارہ قرار دیا۔ پیر کو وارانسی میں ’قدیم دانش اور جدید چیلنجز‘ کے موضوع پر منعقدہ عالمی سمپوزیم کے افتتاحی خطاب میں پروفیسر سیکس نے اڈانی گروپ اور اڈانی فاؤنڈیشن کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اڈانی فاؤنڈیشن اس بنیادی ڈھانچے سے وابستہ بڑے کاروباری گروپ کا سماجی بہبود اور ترقیاتی شعبہ ہے۔ سیکس نے ہندوستان اور عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔
بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں اہم کردار
بعد کی بات چیت کے دوران پروفیسر سیکس نے اڈانی گروپ کو ہندوستان میں تبدیلی اور ترقی کا ایک اہم محرک قرار دیا۔ انہوں نے ملک میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں گروپ کی نمایاں شراکت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کاروبار میں خاندانی نام کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں پر بھی اظہار خیال کیا۔ اڈانی گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے سیکس نے کہا کہ خاندانی کاروبار اپنے ساتھ شناخت، اقدار، وراثت اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری لے کر چلتے ہیں۔ ان کے مطابق، کاروباری اداروں کو ان برادریوں کے لیے اپنی خدمات اور کردار کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جہاں وہ کام کرتے ہیں۔
#WATCH | Professor Jeffrey D. Sachs, renowned economist and President of the United Nations (UN) Sustainable Development Solutions Network, says, “The Adani Group is an enormous business and it is one of the great progenitors of change and advance in India. So, when we look at India’s very rapid economic growth – the fastest growing large economy in the world – it is fuelled in significant part by the advance of infrastructure. And Adani Group is playing a huge role in that…We heard Dr Adani talk about how the family feels about what it is doing. I can say that I hear the same from families in other places where there are 3rd or 4th generation family businesses…A family business is different. I think all businesses should have that sense that we are not here for some financial bottomline, no matter where it comes from, no matter what risks it imposes, no matter what cost it imposes on others. But we are a moral entity that is going to be recaptured by deeper wisdom.”
— ANI (@ANI) November 2, 2026
کارپوریٹ جواب دہی اور تجارتی مفادات
پروفیسر سیکس نے سماجی ذمہ داری کے فروغ میں عوامی حصص والی کمپنیوں کو درپیش مشکلات کی وضاحت کے لیے یونی لیور کے سابق چیف ایگزیکٹیو پال پولمین کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولمین نے یونی لیور کو سماجی طور پر ذمہ دار ادارے کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن حصص یافتگان، سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں نے ان کے طریقۂ کار کی مخالفت کی اور مالی منافع کو ترجیح دینے کی توقع ظاہر کی۔
مصنوعی ذہانت کے خطرات پر توجہ دینے کی ضرورت
سیکس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں اس کے ممکنہ خطرات پر خاطر خواہ توجہ دیے بغیر تجارتی مواقع حاصل کرنے کی دوڑ پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے اینتھروپک کا حوالہ دیتے ہوئے اس تضاد کی نشاندہی کی کہ ایک جانب کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ٹیکنالوجی کے ممکنہ تباہ کن نتائج سے متعلق انتباہات دیتے ہیں، جب کہ دوسری جانب کمپنی کے بارے میں ایک بڑے ابتدائی عوامی حصص اجرا (آئی پی او) کی تیاری کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں کو محض تجارتی عزائم کے بجائے ان خطرات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ پروفیسر سیکس نے خاندانی کاروبار کی سماجی ذمہ داریوں کو ان کمپنیوں کی وسیع تر جواب دہی سے جوڑا جو دور رس اثرات کی حامل ٹیکنالوجیز تیار کر رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



