غازی آباد: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے حکام اتوار کو سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کو غازی آباد لے کر پہنچے، جہاں انہیں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ای ڈی نے ہفتہ 31 اکتوبر کو اعظم خان کو مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق جاری منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا تھا۔ حکام کے مطابق، ای ڈی کے لکھنؤ زونل دفتر کی ایک ٹیم اعظم خان کی رہائی سے قبل رامپور ضلع جیل پہنچ گئی تھی۔ جیسے ہی وہ جیل سے باہر آئے، ای ڈی نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس سے قبل 13 اکتوبر کو بھی ایجنسی نے اسی معاملے میں رامپور جیل کے اندر اعظم خان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ اس وقت وہ جس بیرک میں بند تھے، وہیں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔
سرکاری ٹھیکوں کی رقم میں مبینہ خرد برد کی تحقیقات
ای ڈی کی تحقیقات کا تعلق سرکاری ٹھیکوں سے حاصل ہونے والی رقم کو مبینہ طور پر نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے منتقل کرنے اور بعد میں اس رقم کے استعمال سے ہے۔ ایجنسی کے مطابق، اس رقم کا ایک حصہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کے اثاثوں کی تعمیر سمیت دیگر سرگرمیوں میں استعمال کیے جانے کا شبہ ہے۔ ایجنسی نے 19 اگست کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون 2002 کی دفعہ 17 کے تحت اعظم خان سے منسلک اتر پردیش اور دہلی کے 10 مقامات پر تلاشی لی تھی۔ اس کارروائی میں رامپور اور سہارنپور کے علاوہ دہلی میں بھی مختلف مقامات کی جانچ کی گئی تھی۔ تلاشی کے دائرے میں مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کے احاطے بھی شامل تھے۔ ای ڈی کے مطابق، تحقیقات میں بعض ٹھیکیداروں اور ٹرسٹ کے درمیان مالی لین دین کا پتا چلا ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے والے بعض ٹھیکیداروں نے ٹھیکوں سے حاصل ہونے والی رقم ٹرسٹ اور یونیورسٹی کی جانب منتقل کی، جس میں بڑی رقم کے عطیات اور تعمیراتی کام بھی شامل ہیں۔
جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارت بھی منسلک
ای ڈی نے 28 اکتوبر کو اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارت کو بھی منسلک کیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق، ان جائیدادوں کی کتابی قیمت 426 کروڑ روپے ہے، جبکہ موجودہ بازار قیمت کا تخمینہ تقریباً 1,170 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی ہے، جسے اعظم خان نے 2006 میں قائم کیا تھا۔ اعظم خان رامپور صدر اسمبلی حلقے سے 10 مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں اور اتر پردیش کی سابق سماج وادی پارٹی حکومت میں کابینی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ پارٹی کے اہم مسلم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر سے وہ جعل سازی کے ایک مقدمے میں سزا کے بعد رامپور ضلع جیل میں بند تھے۔ اس کے علاوہ، 2019 کے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران سرکاری افسران، جن میں اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ بھی شامل تھے، کے بارے میں قابل اعتراض ’جوتے صاف کرنے‘ والے بیان سے متعلق معاملے میں انہیں دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

