نئی دہلی : جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ہفتے کی رات مظاہرین نے دکانوں میں لوٹ مار کی اور کئی مقامات پر توڑ پھوڑ کی۔ تعلیم کے لیے سرکاری فنڈنگ اور لازمی فوجی خدمات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج میں ملک کے کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر اتر آئے۔ ’’جن زی ریگلٹ‘‘ نامی تنظیم کی جانب سے منعقد کیے گئے یہ مظاہرے برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں ہوئے۔یہ احتجاج پورے یورپ میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری مظاہروں کی ایک کڑی ہے۔ نوجوان بہتر معاشی تحفظ اور عوامی خدمات میں بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے بھی اسی وسیع احتجاجی تحریک کا حصہ ہیں، جو اس سال یورپ کے مختلف ممالک میں دیکھنے میں آئی ہے۔
فرینکفرٹ میں احتجاج نے تشدد کی شکل اختیار کی
سربیا میں طلبہ ایک طویل عرصے سے اقتدار میں موجود لیڈروں کو ہٹانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جب کہ فرانس میں احتجاج نے فسادات اور لوٹ مار کی شکل اختیار کر لی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرینکفرٹ میں بھی مظاہرے پرتشدد ہو گئے، جہاں کم از کم دو دکانوں میں لوٹ مار کی گئی اور کئی دیگر دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ فرینکفرٹ پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پرتشدد واقعات جاری ہیں۔ شہر کے مرکزی علاقے میں کئی دکانوں کے شیشے توڑ دیے گئے ہیں اور ہنگامی خدمات انجام دینے والے اہلکاروں پر پیٹرول بم بھی پھینکے جا رہے ہیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شہر کے مرکزی علاقے میں جانے سے گریز کریں یا وہاں موجود ہیں تو فوری طور پر علاقہ چھوڑ دیں۔
جرمن حکام کا انتہا پسند گروہوں سے متعلق انتباہ
جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں مظاہرین نے رکاوٹوں کو آگ لگا دی۔ جرمن حکام کے مطابق زیادہ تر مقامات پر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ انتہا پسند گروہ بڑے اجتماعات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔اس احتجاجی مہم میں ایسے نوجوان بڑی تعداد میں شامل ہیں جو لازمی فوجی خدمات کے مخالف ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت عوامی سہولیات، خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائے۔
’’جن زی ریگلٹ‘‘ کی قیادت میں مظاہرے
برلن میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ’’جن زی ریگلٹ‘‘ کی ترجمان لینا فریڈرش نے کہا کہ وہ جنگ یا زبردستی کے لیے نہیں بلکہ امن اور آزادی کے لیے سڑکوں پر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ صحت اور تعلیمی نظام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ لازمی فوجی خدمات کے خلاف ہیں اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کے حامی ہیں۔دوسری جانب جرمنی کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ بائیں بازو کے بعض انتہا پسند گروہوں کے دھڑوں اور بیرونی انتہا پسند تحریکوں سے وابستہ گروہوں نے ان مظاہروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔فرانس میں ہونے والے ہنگاموں کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست ہیسے، جس میں فرینکفرٹ واقع ہے، کے وزیر داخلہ رومن پوسیک نے بھی خبردار کیا ہے۔ ان کا انتباہ جرمنی میں جاری احتجاج کے دوران ممکنہ بدامنی کے خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
