Bharat Express DD Free Dish

Delhi Club Murder: دہلی کے نائٹ کلب میں باؤنسرز کی پٹائی سے نوجوان کی موت، میٹرو میں سیٹ سے لے کر بیئر گرنے تک، معمولی باتوں پر کیوں بہہ رہا ہے خون؟

متوفی دلجیت پیشے سے ڈرائیور تھا اور رگھوبیر نگر کا رہنے والا تھا۔ ذرائع کے مطابق، اس کے خاندان میں بیوی، 8 سال کا بیٹا اور والد شامل ہیں۔ دلجیت اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ نائٹ کلب گیا تھا۔ اسی دوران اس کے دوستوں میں سے ایک کے ہاتھ سے بیئر ایک خاتون پر گر گئی، جس کے بعد وہاں بحث شروع ہوگئی۔الزام ہے کہ اس معمولی بات پر ہونے والے جھگڑے کے دوران کلب کے باؤنسرز نے دلجیت کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی۔

نئی دہلی : دہلی میں ایک نائٹ کلب کے باؤنسرز نے مبینہ طور پر ایک خاتون پر بیئر گرنے کے بعد شروع ہونے والے جھگڑے میں 29 سالہ نوجوان کو اتنی بری طرح پیٹا کہ اس کی موت ہوگئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ ہفتے کی دیر رات سرائے روہیلہ تھانہ علاقے کے ایک نائٹ کلب میں پیش آیا۔ پولیس نے اس معاملے میں کچھ لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، جب کہ دیگر مشتبہ افراد کی شناخت کرکے انہیں پکڑنے کی کوشش جاری ہے۔

خاتون پر بیئر گرنے کے بعد شروع ہوا جھگڑا

متوفی دلجیت پیشے سے ڈرائیور تھا اور رگھوبیر نگر کا رہنے والا تھا۔ ذرائع کے مطابق، اس کے خاندان میں بیوی، 8 سال کا بیٹا اور والد شامل ہیں۔ دلجیت اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ نائٹ کلب گیا تھا۔ اسی دوران اس کے دوستوں میں سے ایک کے ہاتھ سے بیئر ایک خاتون پر گر گئی، جس کے بعد وہاں بحث شروع ہوگئی۔الزام ہے کہ اس معمولی بات پر ہونے والے جھگڑے کے دوران کلب کے باؤنسرز نے دلجیت کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی۔

ڈنڈوں اور شیشے کی بوتلوں سے کیا گیا حملہ

پولیس ذرائع کے مطابق، دلجیت اور اس کے دوستوں کی جانب سے معافی مانگنے کے باوجود حملہ نہیں رکا۔ الزام ہے کہ کلب کے ویٹر بھی مارپیٹ میں شامل ہوگئے اور انہوں نے ڈنڈوں اور شیشے کی بوتلوں سے نوجوانوں کو پیٹا۔جب دلجیت اور اس کے دوستوں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے انہیں مبینہ طور پر واپس اندر کھینچ لیا اور دوبارہ مارپیٹ کی۔ اس دوران دلجیت کو سب سے زیادہ شدید چوٹیں آئیں۔بعد میں دلجیت کے دوست اسے رگھوبیر نگر میں واقع اس کے گھر لے گئے، جہاں وہ دروازے کے قریب ہی گر پڑا۔ اس کے بعد اسے گرو گوبند سنگھ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

دہلی میں معمولی باتوں پر تشدد کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

دہلی میں یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے، جب کچھ روز قبل میٹرو میں سیٹ پر بیٹھنے کو لے کر ہونے والے جھگڑے میں ایک شخص کی پٹائی کے بعد موت کی خبر سامنے آئی تھی۔ اس معاملے میں ایک سابق آئی اے ایس افسر اور ان کے وکیل بیٹے پر مارپیٹ کا الزام لگایا گیا تھا۔اب نائٹ کلب میں بیئر گرنے جیسی معمولی بات پر 29 سالہ نوجوان کی موت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ آخر معمولی اختلافات اور چھوٹی چھوٹی باتیں جان لیوا تشدد میں کیوں بدل رہی ہیں؟ اختلاف یا جھگڑے کی صورت میں بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا رجحان معاشرے کے لیے تشویش کا باعث بنتا جارہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read