Bharat Express DD Free Dish

Delhi

دیویندر نے بتایا کہ 2 سال پہلے آیا نگر میں ارون نامی ایک نوجوان کا قتل ہوا تھا۔ اس معاملے میں وجے کے چھوٹے بھائی اجے اور اس کے دوست دیپک اور یوگیش کو قصوروار پایا گیا تھا اور وہ تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ارون کے اہل خانہ کو شبہ تھا کہ وجے بھی اس قتل میں شامل تھا۔ اسی وجہ سے اسے کئی بار دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔ پولیس اب پرانے قتل کے معاملے اور تازہ واردات کے درمیان ممکنہ تعلق کی کڑی تلاش کر رہی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے دوران پولیس نے مقتول کے سر کے بائیں جانب کنپٹی پر چوٹ کا نشان دیکھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ چوٹ موقع سے ملنے والے خون آلود کنکریٹ بلاک سے لگی ہوگی۔ چونکہ مقتول کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی تھی، اس لیے پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی۔

محکمہ صحت نے اسپتالوں اور کلینکس میں انفیکشن کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے اقدامات مزید سخت کردیئے ہیں۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔محکمہ صحت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ کھانستے یا چھینکتے وقت ناک اور منہ کو رومال یا ٹشو سے ڈھانپیں اور صابن و صاف پانی سے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں۔

دہلی ہائی کورٹ کو یہ دھمکی ای میل کے ذریعے موصول ہوئی، جس کے بعد وہاں معیاری سیکورٹی پروٹوکول کو نافذ کر دیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈز نے ہائی کورٹ کے احاطے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

جمعرات کو وانگچک نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اسی وقت ختم کریں گے جب مرکزی حکومت انہیں یقین دہانی کرائے گی کہ ’چلو سنسد‘ احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف کوئی تعزیری یا انتقامی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

متوفی کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ سورج کی بھابھی ریتو نے کہا کہ اگر نالہ ڈھکا ہوتا یا یہاں روشنی کا مناسب انتظام ہوتا تو آج ان کا خاندان اس سانحے کا شکار نہ ہوتا۔ متوفی کے بھائی دھیرو نے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ تفتیشی ادارے عمارت کے حفاظتی انتظامات، آگ سے بچاؤ کے نظام اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

نئی دہلی: ملک بھر میں جمعرات کے روز عید الاضحیٰ مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ صبح سے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ مساجد اور عیدگاہوں میں جمع ہوئے اور خصوصی نماز ادا کی۔ لوگ روایتی لباس پہن کر نماز میں شریک ہوئے اور اپنے اہل خانہ، دوستوں اور پڑوسیوں …

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اقبال احمد انصاری نے کہا کہ موجودہ دور میں انشورنس صرف ایک مالیاتی سہولت نہیں بلکہ زندگی کے غیر متوقع حالات میں ایک اہم سہارا بن چکی ہے۔ انہوں نے ایک کار حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بروقت انشورنس معاونت نے مشکل وقت میں نمایاں مدد فراہم کی،

ایئر انڈیا نے اس واقعے سے مسافروں کو ہونے والی پریشانی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ مسافروں کو جلد از جلد لندن پہنچانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔