مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے دشہرہ میدان میں مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے گوپالک کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو، ریاستی حکومت کے کئی وزرا، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور بڑی تعداد میں مویشی پالنے والے اور دودھ پیدا کرنے والے کسان موجود تھے۔ مویشی پالنے اور ڈیری سے وابستہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے حکومت تعاون اور جدید ٹیکنالوجی پر زور دے رہی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ علیحدہ وزارتِ تعاون کے قیام سے کسانوں، مویشی پالنے والوں اور دیہی معیشت سے وابستہ افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
کوآپریٹو نظام سے بیچولیوں سے ملے گی نجات
امت شاہ نے کہا کہ کھلی منڈی میں دودھ فروخت کرنے والے مویشی پالنے والوں کو کئی مرتبہ بیچولیوں کی وجہ سے دودھ کی مناسب قیمت نہیں مل پاتی۔ کوآپریٹو نظام انہیں دودھ کی بہتر قیمت دلانے کے ساتھ ساتھ دودھ سے تیار ہونے والی مختلف مصنوعات کی آمدنی میں بھی حصہ دار بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دودھ کو صرف خام شکل میں فروخت کرنے کے بجائے اس سے آئس کریم، مکھن، گھی، پنیر اور مَوا جیسی مصنوعات تیار کرنے کے لیے پروسیسنگ کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اس سے مویشی پالنے والوں کی آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے۔
نسل کی بہتری کے لیے مدھیہ پردیش میں 50 ایکڑ زمین
ڈیری پیداوار بڑھانے کے لیے مویشیوں کی نسل کی بہتری کو اہم قرار دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں گائے اور بھینس کی نسل کی بہتری سے متعلق پروگراموں کے لیے 50 ایکڑ زمین فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جسے ریاستی حکومت نے اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے جدید نسل افزائی کی تکنیک اور سیکس سورٹڈ سیمن کے استعمال پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بہتر نسل تیار کرنے، مویشیوں کی صحت بہتر بنانے اور دودھ کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ملک میں دودھ کی پیداوار 14.60 کروڑ ٹن سے بڑھ کر 24.80 کروڑ ٹن
امت شاہ نے بتایا کہ 15-2014 میں ملک میں تقریباً 14.60 کروڑ ٹن دودھ پیدا ہوتا تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 24.80 کروڑ ٹن ہوگیا ہے۔ اسی عرصے میں فی کس دودھ کی دستیابی بھی تقریباً 307 گرام سے بڑھ کر 485 گرام یومیہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ بھارتی ڈیری مصنوعات کی برآمد بھی بڑھ کر تقریباً 4,666 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے اور انہیں مختلف ممالک میں بھیجا جارہا ہے۔
ملک بھر میں کھلیں گی 75 ہزار نئی کوآپریٹو ڈیریاں
امت شاہ نے ’شویٹ کرانتی 2.0‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 75 ہزار نئی کوآپریٹو ڈیریاں قائم کرنے اور 46 ہزار موجودہ ڈیریوں کو مضبوط بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس سے مدھیہ پردیش کے مویشی پالنے والوں کو بھی فائدہ ملنے کی امید ہے۔
گوبر سے بھی آمدنی کے نئے مواقع
مرکزی وزیر نے گوبر سے اضافی آمدنی کے امکانات پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سائنسی طریقے سے گوبر کے استعمال کے ذریعے صاف توانائی پیدا کرنے، غذائی اجزا کی ری سائیکلنگ اور دیہی روزگار کے مواقع بڑھانے کی بات کہی۔
ڈیری سے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ
امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو ڈیری خواتین کی معاشی حالت مضبوط کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ ڈیری سے حاصل ہونے والی آمدنی براہِ راست خواتین تک پہنچنے سے خاندان کی مالی حالت بہتر ہوگی اور خواتین کی معاشی خودمختاری بھی مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے خلاف جنگ میں بھی ڈیری شعبے کا اہم کردار ہے۔
بھوپال اور اجین میں بڑے ڈیری منصوبوں کا آغاز
کانفرنس کے دوران امت شاہ نے اجین میں 255 کروڑ روپے کی لاگت سے روزانہ 3 لاکھ لیٹر دودھ پروسیسنگ کی صلاحیت رکھنے والے پلانٹ کا ڈیجیٹل سنگِ بنیاد رکھا۔ اس کے علاوہ بھوپال میں تقریباً 16.5 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار 40 ہزار لیٹر یومیہ صلاحیت والے پروڈکٹ ڈیری پلانٹ اور 12.42 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار جدید ریاستی سطح کی مرکزی لیبارٹری کا افتتاح کیا۔ انہوں نے شیواپوری کے منی ڈیری پلانٹ کی 6.5 کروڑ روپے کی لاگت سے کی گئی توسیع و مضبوطی کے کام کا بھی ڈیجیٹل افتتاح کیا۔
مویشی پالنے والوں کو بونس، خواتین کو ’گوپالک دیدی‘ کا اعزاز
پروگرام کے دوران مویشی پالنے والوں کو بونس، گو شالاؤں کو مالی امداد اور ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ارکان کو منافع بھی تقسیم کیا گیا۔ خواتین مویشی پالنے والوں کو ’گوپالک دیدی‘ کے طور پر اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کام دھینو یوجنا کے تحت منظوری نامے بھی تقسیم کیے گئے۔ امت شاہ نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومت کا مقصد کوآپریٹو اور ڈیری شعبے کو مضبوط بناکر مدھیہ پردیش کے مویشی پالنے والوں، کسانوں اور خواتین کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



