نئی دہلی : نیٹ پیپر لیک معاملے کے خلاف 26 روز تک بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک نے اپنا انشن ختم کرنے کے بعد ایک نیا ویڈیو جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اٹھنے والے سوالات اور تنقید کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ 26 دن تک مسلسل بھوکے رہنے کے بعد بھی اگر ان کی نیت اور جدوجہد پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔سونم وانگچک نے ویڈیو میں کہا کہ 26 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد آخر انہیں مزید کیا ثابت کرنا باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ان کے انشن ختم کرنے پر اتنے سوال کیوں کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے کس کے ہاتھوں انشن ختم کیا، کیوں ختم کیا اور کیا حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہوا۔
AFTER 26 DAYS OF HUNGER DO I NEED TO PROVE MY SINCERITY !!!
Do please watch and help spread the word. Find the full 22 minutes video on my YouTube Channel: Sonam Wangchuk pic.twitter.com/6CO3tjZsSD— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 24, 2026
انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران انہیں زبردستی وہاں سے ہٹایا گیا، جبکہ 20ویں اور 22ویں دن کے درمیان بھی انہوں نے پوری قوت کے ساتھ اپنا احتجاج جاری رکھا۔ وانگچک نے کہا کہ ان کا وزن 11 کلوگرام کم ہو چکا ہے اور لداخ کی شدید سردی سے دہلی کی سخت گرمی میں آکر 26 دن تک بھوکے بیٹھنے کے بعد بھی اگر انہیں اپنے کردار کا سرٹیفکیٹ دینا پڑے تو یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔انہوں نے کہا، “میں نے کل سے صرف مائع غذا لینا شروع کی ہے، جس سے جسم میں کچھ توانائی واپس آئی ہے۔ صبح سے لوگ مجھے فون کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کی پوسٹس دکھا رہے ہیں جن میں مجھ پر مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ میں نے مرکزی وزراء کے ہاتھوں ہی اپنا انشن کیوں ختم کیا، کسی اور کے ذریعے کیوں نہیں۔”
ٹرولرز کو سخت جواب دیتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا، “اگر مجھے کوئی سودا ہی کرنا ہوتا تو کیا میں 26 دن تک بھوکا رہتا؟ جو لوگ سمجھوتے کرتے ہیں، وہ اس طرح سڑکوں پر بیٹھ کر نہیں کرتے بلکہ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔ افسوس ایسے معاشرے پر جہاں اس قسم کی سوچ پروان چڑھے اور ایسے گھٹیا خیالات جنم لیں۔”واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک نے حکومت کی جانب سے یقین دہانی ملنے کے بعد 23 جولائی کی دیر رات اپنا انشن ختم کر دیا تھا۔ ان کے انشن کے خاتمے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے، جن کے جواب میں انہوں نے یہ تازہ ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

