Bharat Express DD Free Dish

Abhijeet Dipke

سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ابھیجیت دیپکے انسٹاگرام لائیو کے دوران پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے معائنے کا مطالبہ سن کر غیر آرام دہ ہوگئے۔ ایک صارف کے سوال اور ابھیجیت دیپکے کے جواب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے طلبا کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ پارٹی پنجاب میں امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے کا جائزہ لے گی اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔

سوربھ داس کے مطابق ویڈیوز اور تصاویر میں ایسے کئی پولیس اہلکار اور آر اے ایف کے جوان نظر آئے ہیں جو مظاہرین کے سروں پر لاٹھیاں مارتے اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اہلکاروں کے خلاف جلد قانونی عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کارروائی میں متعدد طلبہ کے سر اور ہاتھ شدید زخمی ہوئے تھے۔

ٹرولرز کو سخت جواب دیتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا، "اگر مجھے کوئی سودا ہی کرنا ہوتا تو کیا میں 26 دن تک بھوکا رہتا؟ جو لوگ سمجھوتے کرتے ہیں، وہ اس طرح سڑکوں پر بیٹھ کر نہیں کرتے بلکہ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔ افسوس ایسے معاشرے پر جہاں اس قسم کی سوچ پروان چڑھے اور ایسے گھٹیا خیالات جنم لیں۔"کر دیا تھا۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا، ’’جنترمنترپر ہمارا پُرامن احتجاجی مظاہرہ تب تک جاری رہے گا، جب تک دھرمیندرپردھان استعفیٰ نہیں دے دیتے۔‘‘ ابھجیت دیپکے نے کہا کہ جنترمنترپرجاری پرامن دھرنا اس وقت تک ختم نہیں ہوگا، جب تک مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دے دیتے۔

سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران دہلی پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔ ان الزامات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں اور حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنتر منتر پر ہی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے اور سونم وانگچک کی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔

سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران احتجاجی مقام پر موجود مظاہرین نے شدید مخالفت کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی دھکم پیل بھی ہوئی اور حکومت و پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ تاہم پولیس نے سونم وانگچک کو ہجوم کے درمیان سے محفوظ طریقے سے ایمبولینس تک پہنچایا اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا۔

 دیپکے نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے لداخ سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آواز بھرّا گئی، جس کے بعد وہ اسٹیج پر ہی رونے لگے۔