نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ہفتے کی علی الصبح دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے کو حراست میں لینے کے بعد کسی نامعلوم مقام پر رکھا ہے۔ پارٹی کے مطابق، ان کے اہل خانہ، وکلا اور تنظیم کے ارکان کو بھی ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جا رہی ہیں۔پارٹی نے پولیس کی اس کارروائی کو ’اغوا‘ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا، ’’ابھجیت کہاں ہیں؟‘‘ سی جے پی کے رہنما اجنکیا شندے کے مطابق، ابھجیت دیپکے کو حراست میں لیے جانے کے 10 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود ان کے ٹھکانے کا پتہ نہیں چل سکا تھا۔
جھنڈے والان علاقے سے حراست میں لیے گئے دیپکے
ابھجیت دیپکے کو دہلی میں ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج میں شرکت کے لیے کنّاٹ پلیس جاتے وقت جھنڈے والان علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔سی جے پی کا الزام ہے کہ حراست میں لیے جانے کے بعد دیپکے کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا اور انہیں اپنے وکلا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
سی جے پی کا سوال، ابھجیت دیپکے کہاں ہیں؟
.@abhijeet_dipke has been kidnapped by @DelhiPolice
It has been more than 10 hours since he was picked up but until now, neither his parents, nor his lawyers & not the CJP team have been given any updates about his location
We’re all asking only one question: #AbhijeetKahanHai
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) October 16, 2026
سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے ابھجیت دیپکے کو اغوا کر لیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ انہیں حراست میں لیے ہوئے 10 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، لیکن ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔پارٹی کے رہنما اجنکیا شندے نے الزام لگایا کہ نہ تو دیپکے کے اہل خانہ کو ان کی حراست کے بارے میں بتایا گیا اور نہ ہی ان کے وکلا یا پارٹی ارکان کو کوئی معلومات فراہم کی گئیں۔ پارٹی نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
مندر مارگ تھانے کو خط لکھ کر مانگا جواب
ابھجیت دیپکے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے سی جے پی نے مندر مارگ تھانے کے انچارج کو خط بھی لکھا ہے۔ پارٹی نے پولیس سے سوال کیا ہے کہ دیپکے کو کہاں رکھا گیا ہے، ان کی حراست میں کن قانونی دفعات کا استعمال کیا گیا ہے اور انہیں حراست میں لینے کی بنیاد کیا ہے۔سی جے پی کے رہنما روہن دیش پانڈے نے بھی مطالبہ کیا کہ حراست کا حکم دینے والے افسر کا نام عوام کے سامنے لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابھجیت دیپکے کو اپنے وکلا سے ملاقات کرنے اور بات چیت کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ انہیں اپنے ساتھیوں سے رابطہ کرنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔پارٹی کا کہنا ہے کہ ابھجیت دیپکے کے ٹھکانے اور حراست کی وجوہات کے بارے میں معلومات فراہم نہ کیے جانے سے ان کے حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ تاہم، ان الزامات پر دہلی پولیس کی جانب سے تفصیلی ردعمل سامنے آنے کی اطلاع دستیاب نہیں ہے۔
اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا کو کیا گیا رہا
دوسری جانب، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی قومی صدر نیہا بورا کی حراست اور ان کے ٹھکانے کو لے کر بھی سوالات اٹھے تھے۔ ان کے بارے میں کئی گھنٹوں تک معلومات نہیں مل سکی تھیں۔اے آئی ایس اے نے بعد میں بتایا کہ اس کے وکلا نے نصف شب کے قریب نیہا بورا کا پتہ آر کے پورم تھانے میں لگایا۔ تنظیم نے الزام لگایا تھا کہ انہیں دہلی میں مختلف مقامات پر لے جایا گیا تھا۔دہلی پولیس نے ہفتے کی صبح 6 بجے نیہا بورا کو رہا کر دیا۔ ان کی رہائی کے بعد ابھجیت دیپکے سمیت دیگر مظاہرین کی حراست اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

