Bharat Express DD Free Dish

Cockroach Janata Party

ہائی کورٹ نے اس معاملے میں متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 6 ہفتے بعد ہوگی۔ فی الحال عدالت نے صرف نوٹس جاری کیا ہے، جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔

دہلی پولیس نے سورَو داس اورآشوتوش رانکا کو13 اکتوبرکوحراست میں لیا تھا۔ دونوں پرالزام ہے کہ وہ جنترمنترپرلگائی گئی بیرکیڈنگ کو پھلانگ کرممنوعہ علاقے میں داخل ہوگئے تھے۔ اس معاملے میں 14 اکتوبر کو عدالت نے دونوں کو پانچ دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد پھر دو دنوں کی توسیع کردی گئی تھی۔

سی جے پی نے جمعہ کو کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے دہلی پولیس نے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے دیپکے کو نوٹس جاری کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے شام 5 بجے کناٹ پلیس میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی، جبکہ اس کے لیے قانونی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔سی جے پی کا الزام ہے کہ حراست میں لیے جانے کے بعد دیپکے کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا اور ابھجیت دیپکے کو اپنے وکلا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

اچانک ہنگامہ شروع ہونے کے بعد وہاں موجود تمام صحافی پیچھے کی جانب مڑ گئے۔ نیہا بورا نے ہنگامہ کرنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد انہوں نے پریس کلب انتظامیہ سے اپیل کی کہ ہنگامہ کرنے والے افراد کو باہر نکالا جائے۔اسی دوران ابھیجیت دیپکے نے مائیک سنبھالتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ لوگ پیسوں کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

سی جے پی کے لیڈر ابھجیت دیپکے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا خوف اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کو لگتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام نہ رہنے دینے سے مظاہرے بند ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہونے والا۔ابھجیت دیپکے نے آشوتوش رانکا کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ جنتر منتر پر ترنگا لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے طور پر مودی ہندوستان کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔دیپکے نے اپنی دادی کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے اپنے گاؤں واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی جے پی کے رہنما نہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ ہی ڈریں گے۔

دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کو احتجاج کی اجازت نہ دینے کی وجہ بھی بتائی۔ ڈی سی پی نہا یادو کے مطابق، ماضی میں اس تنظیم کو احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن پولیس کے دعوے کے مطابق اس دوران امن و قانون کی صورت حال خراب ہوئی تھی۔پولیس نے الزام لگایا کہ اس احتجاج کے دوران پتھراؤ، آتش زنی اور تشدد کے واقعات پیش آئے تھے، جن کے نتیجے میں سرکاری املاک کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔

حکومت نوجوانوں اور طلبہ کی آواز دبانے کی جتنی کوشش کرے گی، نئی نسل کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔کانگریس لیڈر نے اعلان کیا کہ 12 اکتوبر کو کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کی جماعتیں اور ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں گے۔ ان کے مطابق، اس بار احتجاج کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ پورے ملک میں سنائی دے گی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان تھامین الخیتان نے دہلی میں احتجاج سے پہلے اور اس کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔او ایچ سی ایچ آر نے ہندوستانی حکام سے اپیل کی کہ وہ شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کریں۔ دفتر نے کہا کہ اس حق پر عائد کی جانے والی پابندیاں ضرورت اور تناسب کے اصولوں پر پوری اترنی چاہئیں۔