Bharat Express DD Free Dish

Cockroach Janata Party

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں بہار کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج آر جے ڈی کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن سی ای سی کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔

امتحان کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کے بعد طالب علم کی موت ہوگئی۔ تاہم، آئی آئی ٹی بمبئی نے واضح کیا ہے کہ طالب علم کے خلاف کوئی باقاعدہ تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ادارے کے مطابق، شعبے کے سربراہ اور امتحان سے متعلق استاد نے طالب علم سے بات کی تھی اور اسے سمجھایا تھا کہ اس واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے بعد طالب علم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، جہاں بعد میں وہ مردہ پایا گیا۔

سورو داس نے اپنی پوسٹ کے ساتھ اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے حوالے سے کارروائی دکھائی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے، ’’آپ کا مواد بلاک کر دیا گیا ہے۔‘‘ سورو داس کے مطابق 10 ستمبر کو انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے ان کے مواد کو بلاک کیا گیا ہے۔

سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔

معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق حکومت نے اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ دیگر ریاستیں بھی مظاہرین کے تحفظ سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گی۔

سینئروکیل اورراجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرممکن قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ کپل سبل نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی پرامن احتجاج کے دوران طلبا کونشانہ بنایا جائے گا اوران کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے، وہاں انھیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے ایکس پرلکھا، ’’ملک میں توویسے ہی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 اسکول سے زیادہ روزبند ہورہے ہیں، ایسے میں اترپردیش میں یونیورسٹی کوگرایا جانا مطلب تعلیم کوکچلنے جیسا فیصلہ ہوگا، جو اس ملک کے لئے قطعی درست نہیں ہوگا۔‘‘ سی جے پی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اترپردیش حکومت کواس فیصلے پرپھرسے غورکرنا چاہئے اوراس ملک کو واپس لینا چاہئے۔

مجوزہ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے تمام مقدمات کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوں گی۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ ان مقدمات کی تیز رفتار سماعت ممکن ہو سکے۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد عدالت کو تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔